ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سانحہ بارکھان: جماعت اسلامی خواتین کا مظاہرہ، مجرموں کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ

کراچی: جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے تحت  سانحہ بارکھان، بلوچستان میں وڈیرہ شاہی اور بلوچ عورتوں پر ظلم کے خلاف ملک گیر یوم احتجاج کے سلسلے میں کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرے میں خواتین نے متاثرہ خاندان اور مظلوم عورتوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ظلم و زیادتی کے خلاف احتجاج کیااور مطالبہ کیا کہ سانحہ بارکھان کے ذمہ داران اور ملوث مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے، خواتین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے،جن پر ”حکمرانو! یوم خواتین پر تقاریر نہیں،خواتین کو احترام اور تحفظ دو، سانحہ بارکھان، کب تک یہ ظلم جاری رہے گا؟

بینرز اور پلے کارڈ پر  مظلوم خاتون کو انصاف دو، ظالم جاگیر داروں، وڈیروں، کرپٹ سرمایہ داروں کا احتساب کرو، ملک میں انصاف اور قانون کے رکھوالے کہاں ہیں؟ مجرم کو جانتے ہوئے بھی نامعلوم کے خلاف ایف آئی آر کیوں؟کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ قانون کیوں؟ سمیت دیگر نعرے درج تھے۔

نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مروجہ نظام سانحہ بارکھان کا ذمہ دار ہے، ریاست کے اندر ریاست بنائی ہوئی ہے جو اپنے سے کم تر پر ظلم ڈھا رہی ہے۔

ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہاکہ  بلوچستان کے ظالم سردار کے حکم پر جھوٹی گواہی دینے سے انکار پر 2 بچوں اور 1 عورت کو قتل کردیا گیا جوانتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ سانحہ بارکھان میں ملوث مجرموں کو عبرتناک سزا دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا احتجاج ان ظالموں کے خلاف ہے جو 75 سال سے ملک پر قابض ہیں، کراچی کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں خراج تحسین کی مستحق ہیں جنہوں نے  بڑی تعداد میں سانحہ بارکھان کے خلاف مظاہرے میں شرکت کی اور مظلوم خاندان اور خواتین سے اظہار یکجہتی کیا۔

رہنما جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ آج وہ موم بتی مافیا کہاں ہے جو یوم خواتین پر مظاہرہ کرکے مغرب کے ایجنڈے کو تو آگے بڑھاتی ہیں لیکن اسے سانحہ بارکھان نظر نہیں آتا۔

مظاہرے میں حلقہ خواتین پاکستان کی ڈپٹی سکریٹری عطیہ نثار کی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا آج کاا حتجاج بلوچستان کے ارباب اقتدار کو پیغام ہے کہ بلوچستان کی خواتین کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ ہم ملک میں موجود بیوروکریسی کو بھی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ملک سے ظالمانہ نظام ختم کیا جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں