پاکستان اور أفغانستان کے درمیان طورخم سرحدی گزرگاہ کو 6 روز بعد کارگو گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا۔
سرحدی صوبے ننگر ہار کے ثقافتی و معلومات أمور کے منیجر نور محمد حنیف کا کہنا ہے کہ کل جزوی طور پر کلنے والی طورخم سرحدی چوکی آج صبح سے مسافروں اور کارگو کی آمدروفت کے لیے کھول دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ افغان سیکورٹی اہلکاروں نے 6 روز قبل سرحدی گزرگاہ کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کردیا تھا۔
سرحدی گزرگاہ پر دو طرفہ تجارت کی معطلی سے ملکی خزانے کو ٹیکس کی مد میں 270 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی گزرگاہ بند ہونے سے ہزاروں کارگو گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔
اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان کی انتظامیہ میں آنے کے بعد طالبان اور پاکستانی سرحدی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں جن میں وقتاً فوقتاً دونوں طرفین کو جانی نقصان ہوتا رہتا ہے۔
تنازعات کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی دروازے وقتاً فوقتاً بند ہوتے رہتے ہیں۔