فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون نے کہا ہے کہ ہم، ملک کی افریقہ پالیسی کے دائرہ کار میں، برّاعظم افریقہ میں فرانس کی فوجی بیسوں کی تعداد محدود کر دیں گے۔
ماکرون نے یکم تا 5 مارچ کے دوران 4 افریقی ممالک کے دورے سے قبل صدارتی پیلس الیزے میں منعقدہ پریس کانفرنس میں فرانس کی نئی افریقہ حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "فرانس، افریقہ میں اپنی فوجی بیسوں پر تبدیلی کا عمل شروع کر کے خاص طور برّاعظم میں اپنی لیبر فورس میں کمی کر دے گا۔ یہ تبدیلی ہم، افریقہ میں فرانس کا تائثر بدلنے اور ماضی کی اس میراث سے چھٹکارہ پانے کے لئے کرنا چاہتے ہیں کہ جسے فرانس مخالف بطور بہانہ استعمال کر رہے ہیں”۔
ا مانوئیل ماکرون نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ آئندہ ہفتے برّاعظم افریقہ کے ثقافتی ورثے کو واپس کرنے کے لئے فرانس کے وزیر ثقافت ایک آئینی بِل پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ مزید وسیع حلقہ اور یورپ بھی یہ روّیہ اختیار کرے گا۔
واضح رہے کہ فرانس اگست 2014 سے مالی میں جاری فرانس بخکانہ آپریشن کو، باماکو انتظامیہ کے پیرس کے ساتھ کشیدہ ہوتے تعلقات کی وجہ سے، جون 2022 میں ختم کرنے پر اور تمام فرانسیسی فوجیوں کو ملک سے نکالنے پر مجبور ہو گیا تھا۔
علاوہ ازیں پیرس، برکینا فاسو فوجی حکومت کی طرف سے 23 جنوری کو فرانس کے ساتھ فوجی تعاون کا سمجھوتہ فسخ کئے جانے کے بعد اس ملک میں 2009 سے جاری سیبر آپریشن کی وجہ سے متعین فوجیوں کو بھی 19 فروری کو واپس بلانے پر مجبور ہو گیا تھا۔