اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے ریلوے وہوابازی خواجہ محمد سعد رفیق نے کہا ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ اور دیگر جج صاحبان کے اٹھائے گئے سوالات نہایت اہم ہیں، انھیں نظر انداز کر کے آگے بڑھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، صوبائی اسمبلیاں فرد واحدکے احکامات پربغیر وجہ بتائے توڑی گئیں۔
سعد رفیق نے کہاکہ اراکین صوبائی اسمبلی کا ووٹ گنے بغیر انھیں ڈس کوالیفائی کرنیکا حکم قانون اور آئین سے متصادم تھا، ریویو کا فیصلہ زیر التو کیوں ہے ؟انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں تو ان سولات اور مقدمات کو اکٹھے دیکھا جائے، جمہوریت میں کسی اتھارٹی کو فیصلے کرنیکی بلائنڈ پاور حاصل نہیں ہوتی۔
سعد رفیق کا کہنا تھا کہ انصاف اور آئین کی پامالی ریاست کی سالمیت کو خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔ وفاق اور صوبوں میں چند ماہ کے وقفے سے انتخابات تلخ ترین تنازعات کو جنم دیں گے، دو صوبو ں میں پرانی مردم شماری اور وفاق سمیت بقیہ دو صوبوں میں نئی مردم شماری پر انتخابات قومی وحدت کیلئے نقصان دہ ہے۔
