ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اٹلی میں کشتی ڈوبنے سے 80 افغان شہری ہلاک ہوئے: افغان طالبان

افغانستان کے طالبان حکام نے منگل کو کہا ہے کہ اٹلی کے جنوبی ساحل کے قریب ایک کشتی ڈوبنے سے ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچوں سمیت 80 افغان شہری بھی شامل ہیں۔

ادھر اٹلی میں امدادی کارکنوں نے اب تک 65 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جب کہ ان کا کہنا ہے کہ 80 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔تاہم امدادی کاررائیوں کی نگرانی کرنے والے حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اٹلی کے جنوبی سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہونے والوں میں 80 افغان مہاجرین بھی تھے جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ ترکی سے لکڑی کی ایک کشتی میں اٹلی جا رہے تھے۔

ترجمان بلخی نے اپنے بیان میں طالبان حکومت کی جانب سے ہلاک ہونےوالو ں کی مغفرت اور متاثرین کے لواحقین کے لیے صبر کی دعا کرتے ہوئے اپنے تمام شہریوں کو ایک بار پھر تاکید کی کہ وہ غیر قانونی طریقے سے بیرونی ملکوں میں جانے سے گریز کریں۔


حادثے کا شکار ہونے والی کشتی کے ٹکڑے اٹلی کے ساحل پر بکھرے پڑے ہیں۔ امدادی کارکن ڈوبنے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ 26 فروری 2023

حادثے کا شکار ہونے والی کشتی کے ٹکڑے اٹلی کے ساحل پر بکھرے پڑے ہیں۔ امدادی کارکن ڈوبنے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ 26 فروری 2023

پاکستان نے بھی منگل کو تصدیق کی کہ اس حادثے میں اس کے دو شہری ہلاک ہوئے جب کہ 17 کو بچا لیا گیا۔

اس بدقسمت کشتی کے حادثے میں زندہ بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق کشتی پر 150 سے 200 تک افراد سوا تھے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان اور افغانستان سے تھا۔

اطالوی حکام نے تین افراد کو، جن میں سے ایک ترکیہ کا شہری اور دو پاکستانی شہری ہیں، انسانی اسمگلنگ کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔

سن 2022 میں ایک لاکھ پانچ ہزار سے زیادہ تارکین وطن سمندر کے راستے اٹلی پہنچے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے تھا۔

اٹلی کشتی حادثہ: 16 پاکستانی مکمل محفوظ ہیں، سفیر





please wait



No media source currently available

اٹلی نے یورپی یونین کے دیگر ممالک سے کہا ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور کچھ تارکین وطن کو قبول کریں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ خطرناک سمندری راستے سے اٹلی پہنچنے والے زیادہ تر غیر قانونی تارکین وطن اٹلی رکنا نہیں چاہتے ۔ان کی کوشش یورپ کے کسی اور ملک میں جانے پر مرکوز ہوتی ہے جہاں انہیں روزگار مل سکے، یا وہ وہاں جا کر اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ شامل ہو سکیں۔

(اس خبر کی کچھ تفصیلات پاکستان سے وی او اے کے ایاز گل اور ایسوسی ایٹڈ پریس سے حاصل ہوئی ہیں)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں