کراچی:امیر جماعت اسلامی سندھ وسابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی نے پاسکو کی جانب سے خراب گندم فروخت کے لیے نکالنے پراشتہارجاری کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی نااہلی اورکرپشن کی وجہ ملک میں آٹے کی قیمت فی کلو 150پر جا پہنچی ہے۔
محمد حسین محنتی نے کہاکہ پورے ملک میں مصنوعی بحران کی کیفیت پیدا کی گئی ہے اور دوسری جانب گوداموں میں گندم کو ضائع کیا جاتا رہا، اس مجرمانہ غفلت پرحکمرانوں کو عوام کو جواب دینا ہوگا۔عوام کے ساتھ عجیب مذاق ہے کہ کبھی گندم خراب ہوجاتی اورکبھی چوہے کھاجاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سرکاری گوداموں میں گندم کے خراب ہونے کی وڈیوز مستقل سوشل میڈیا پر آ رہی ہیں اور ظالم حکومت اپنے کمیشن کی خاطر عوام کو قتل کر رہی ہے، سندھ میں کاشتکاروں کو گندم کی کاشت پر راغب کرنے کے بجائے امپورٹ مافیا کے ہاتھوں حکومت یرغمال ہے، ڈالر کو گندم کی آڑ میں باہر بھیجا جا رہاہے۔
رہنما جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت نے اپنی جیبیں بھرنے کے لیے پورے ملک میں گندم کا مصنوعی بحران پیدا کیا۔بے حس حکومت جواب دے کہ عوام آٹے کے لیے لائنوں میں لگے ہوئے ہیں اوریہ گندم کیسے خراب ہوگئی؟محکمہ خوراک کی کارکردگی سوالیہ نشان بن چکی ہے دوسری بات یہ خراب گندم جس طرح بیچی جا رہی ہے اس کی کون ضمانت دے گا کہ یہ مضر گندم دوبارہ آٹے کی صورت مارکیٹ میں نہیں آسکے گی؟
محمد حسین محنتی نے کہاکہ خراب گندم مویشیوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے مگر کسی کی توجہ اس جانب نہیں جا رہی۔میڈیا رپورٹس میں آچکا ہے کہ سستا آٹا حکومتی اسکیم میں لوگوں کو مضر صحت آٹا دیا گیا۔کرپشن وکمیشن مافیا انسانی زندگیوں سے کھیلنا بندکرے ۔سندھ اربوں روپے کی گندم خردبرد کے مقدمات نیب میں چلے ہیں۔
