ڈھاکا: بنگلا دیش میں طیاروں کے ٹکٹس اور اخراجات مہنگے ہونے کے باعث 1لاکھ 27ہزار حج کوٹے پر اب تک صرف 32ہزار نے درخواست دی ہے جو ملکی تاریخ میں کم ترین تعداد ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے گزشتہ ماہ 4.7ارب ڈالر کی منظوری کے باوجود بنگلا دیش میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے کیوں کہ بنگلادیشی کرنسی ٹکا مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ہوائی جہاز کے آسمان کو چھونے والے کرایوں اور حج کے دیگر اخراجات میں بے پناہ اضافے نے حج کے خواہش مند لاکھوں شہریوں کو مایوس کردیا ہے جن کے لیے سعودی عرب کا سفر ناممکن ہوگیا ہے۔
بنگلادیش میں گزشتہ برس کے مقابلے اس سال عازمین حج کے ہوائی کرایوں میں تقریبا 580ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال یہ 1,400ڈالر تھا، لیکن اس سال یہ تقریبا 2,000ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے رواں برس بنگلا دیشی حکومت کی رضامندی سے ایک لاکھ 47 ہزار کوٹہ مختص کیا ہے لیکن اب تک صرف 32 ہزار عازمین حج نے رجسٹریشن کرائی ہے جب کہ آخری تاریخ 7 مارچ ہے یعنی کوٹہ مکمل ہونا بھی مشکل نظر آرہا ہے،خیال رہے کہ اس سے قبل کوٹے کی تعداد سے دگنی تعداد میں درخواستیں موصول ہوتی تھیں۔
حج آفس ڈھاکا کے ڈائریکٹر سیف الاسلام نے کہاکہ میں نے ملک میں ایسی صورت حال کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا،ڈائریکٹر سیف الاسلام نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ حکومت عازمین حج کے لیے کوئی سبسڈی منظور کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
