ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان ڈائری

تین مارچ کو اقوام متحدہ دنیا بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ کا دن مناتا ہے۔ جنگلی حیات زمین کا لازمی حصہ ہیں۔ اللہ تعالی نے انسانوں کے ساتھ جانوروں پرندوں آبی مخلوق حشرات الارض کو بھی بنایا تاکہ دنیا میں تنوع قائم رہے۔ جنگلی حیات جنگلات اور دنیا کا حسن ہیں انکی بقا افزائش نسل اور معدوم ہوتی نسلوں کو بچانا ہم سب کا فرض ہے۔ یہ چرند پرند آبی مخلوق حشرات الارض ایکو سسٹم کے لئے بہت ضروری ہیں۔ اگر یہ ختم ہونا شروع ہوجائیں تو دنیا کا نظام بھی متاثر ہوجائے گا۔

جنگلی حیات جہاں بہت خوبصورت ہے وہاں خطرناک بھی ہے ان سے فاصلہ رکھا جائے کیونکہ اپنی بھوک مٹانے کے لیے یہ انسانوں پر بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ڈر کر بھی سامنے والے پر حملہ آور ہوجاتے ہیں اس لئے انسانوں کو ان سے دور رہنا چاہئے اور ان کے رہن سہن میں دخل نہیں دینا چاہئے۔

شیر ہاتھی گھوڑا چیتا زیبرا زرافہ لومڑی مگرمچھ سانپ، ریچھ، بندر، ہرن دیگر جانور پرندے اور آبی مخلوق شامل ہے۔

بہت سی جنگلی حیات معدوم ہوتی جارہی ہے جن میں چیتے، برفانی ریچھ، پانڈا،ہاتھی ، گینڈے،گرین سی کچھوے، گوریلا اور ویل مچھلی قابل ذکر ہے۔ اس کے پیچھے شکار انکی کھال فر سر سینگ اور دانت حاصل کرنا شامل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے انکی نسلیں معدوم ہورہی ہیں۔ لوگ اپنے دفاتر گھروں میں شوقیہ نایاب ہرنوں کے سر، چیتے کی کھال اور ہاتھی کے دانت سجاتے ہیں جس کو مکمل طور پر بین ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ فخریہ جانوروں کی کھال والے کوٹ جوتے گھڑیاں پہنتے ہیں جس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں جانوروں کو مار دیا جاتا ہے۔

اس ہی طرح بہت سے لوگ جنگلی حیات کو اپنے گھر میں پالتو جانور بنا کر رکھ لیتے ہیں۔ جس میں سانپ اژدھے شیر چیتے شاہین عقاب باز وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا بھر کے سرکس میں بھی جانوروں کا استعمال ہوتا ہے جن میں ہاتھی شیر بندر ریچھ گھوڑا شامل ہے۔ انسانی سواری کے لئے گدھے گھوڑے خچر کا استعمال ہوتا ہے اور بیل کھیتوں میں ہل چلاتے ہیں۔ کتے سے حفاظت کا کام لیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بہت سے جانوروں کا گوشت دودھ انڈے بطور انسانی خوارک استعمال ہوتے ہیں۔

پاکستانی امراء میں یہ فیشن آگیا ہے کہ انہوں نے اپنے گھروں میں زو یا چڑیا گھر بنا لئے ہیں۔ پاکستان میں سخت گرمی ہوتی ہے لیکن ہسکی جیسے ٹھنڈے علاقے کے کتے کو پاکستان میں بطور فیشن رکھا جاتا ہے۔ اس ہی طرح چاو چاو ایک مہنگی نسل کا کتا ہے اسکو بھی گرمی کے موسم میں رکھا جاتا ہے مقصد صرف شو مارنا ہے۔ یہ جانوروں گرمی برداشت نہیں کرپاتے اور مرجاتے ہیں۔ امیروں کے نجی زو میں مگرمچھ سانپ شیر چیتے اور نایاب نسل کے پرندے بھی ہوتے ہیں۔ جنگلی جانوروں کو گھروں یا چڑیا گھر میں قید رکھنا ایک ظلم ہے۔ اسلام آباد کے چڑیا گھر میں کتنے جانوروں لاپرواہی کی وجہ سے مارے گئے۔ اس ہی طرح گھروں میں جنگلی جانور رکھنا خطرے سے خالی نہیں گذشتہ ہفتے ڈی ایچ اے میں ایک چیتا جس کو غیر قانونی طور پر گھر میں رکھا گیا تھا وہ فرار ہوگیا۔ اس کی وجہ سے پورے علاقے میں خوف پھیل گیا۔ وہ لوگوں پر حملہ کررہا تھا اور گھروں میں چھلانگیں لگارہا تھا۔ایک بہادر بچی نے اس پر گولی نہیں چلانے دی 5 سے 6 گھنٹے بعد اسکو بیہوش کرکے پکڑا گیا۔ اب وہ محکمہ جنگلی حیات کے پاس ہے۔

گھروں میں جنگلی جانور رکھنا کسی بھی وقت خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔اس لئے چڑیا گھر یا ذاتی زو پر مکمل پابندی ہونی چاہئے۔ جانوروں پر ظلم کرنے والو پر جرمانے عائد ہونے چاہیں انکے شکار پر پابندی ہونی چاہئے۔ تین مارچ کو دنیا بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ کا دن منایا جاتا ہے اس دن ہم سب کو عہد کرنا چاہئے کہ جانوروں پر رحم کریں گے اور انکی قدرتی رہن سہن سے دور رہیں گے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں