ایران میں طالبات کے ا سکولوں میں قے اور سر گھومنے کی شکایات کا ازالہ کرنے میں ناکامی پر ردعمل کا اظہار کرنے والے کچھ والدین نے دارالحکومت تہران میں نیشنل ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کے سامنے ایک مظاہرہ کیا۔
والدین کا ایک گروپ تہران میں 5ویں علاقائی ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل ایجوکیشن کے سامنے جمع ہوا اور اپنے بچوں کی حفاظت کا مطالبہ کیا، جنہیں اسکولوں میں کوئی غلط چیز کھلائی جاتی ہے۔
حکام کے خلاف نعرے لگانے والے والدین کے خلاف سیکورٹی فورسز نے مداخلت نہیں کی۔
بتایا گیا ہے کہ ملک کے اساتذہ 7 بھی مارچ کو تہران میں پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے اور مختلف شہروں میں نیشنل ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرے کریں گے۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے ملک کے کم از کم 30 اسکولوں میں اسکول کی سینکڑوں طالبات کو زہر دینے کا الزام اپنے ملک کے دشمنوں پر عائد کیا۔
رئیسی کا کہنا تھا کہ چاہے ان کا مقصد اور بہانہ کچھ بھی کیوں نہ ہو یہ ملک میں بغاوت اور افراتفری کا ماحول پیدا کرنے کی ایک چال ہے۔
دوسری جانب آج بھی تہران کی تحصیل میلارد میں ایک گرلز اسکول کی بچیوں کی حالت بگڑ گئی۔
ایران میں 30 نومبر 2022 سے طالبات میں اجتماعی طور پر ناسازگی طبعیت کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔