عادل شاہزیب کو انٹرویو دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جنرل فیض کا یہ کہنا کہ جو کچھ کیا، آرمی چیف کے حکم کے بغیر ممکن نہیں تھا ان کا اقبالِ جرم ہے۔
ان سے پوچھا گیا کہ جنرل فیض کا یہ بیان غلط کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ وہ محض ایک میجر جنرل تھے اور آرمی چیف کے حکم کے بغیر کچھ بھی کرنا ان کے لئے ممکن نہیں تھا۔
مریم نواز نے جواباً کہا کہ جب میں وہ نے جواب پڑھا جو انہوں نے کامران خان کی ٹوئیٹ کے توسط سے دیا تو میں حیران رہ گئی کیونکہ یہ اعتراف تھا ہر اس الزام کا جو ان پر لگایا گیا تھا۔
انہوں نے کامران خان کی ٹوئیٹ کے ذریعے جو کہا وہ ان الزامات کا انکار نہیں اعتراف تھا کہ وہ سب کچھ ہوا جس کا الزام لگایا جا رہا ہے، بس فرق یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بھی شامل کرنا چاہ رہے ہیں یہ کہہ کر کہ میں اکیلا نہیں تھا۔
مریم کا کہنا تھا کہ جنرل فیض کو یہ سب کرتے ہوئے سوچنا چاہیے تھا کہ پکڑے تو وہ جائیں گے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو انہوں نے خود جا کر کہا کہ مریم نواز اور نواز شریف کو ضمانت نہیں ملنی چاہیے ورنہ ہماری دو سال کی محنت ضائع جائے گی۔
“اب جب کہ انہوں نے اعتراف کر لیا ہے کہ وہ یہ سب کرتے رہے تھے تو امید کرتی ہوں کہ ادارہ اس پر ایکشن لے گا۔”
جنرل ریٹارڈ فیض کا اقبالی بیان آ چکا، وہ اعتراف جرم کر چکے۔ امید ہے اب فوج انکا احتساب کرے گی۔ مریم نواز شریف کا تفصیلی انٹرویو لائیو ود عادل شاہ زیب @AShahzebLive میں آج رات دس بجے صرف ڈان نیوز پر pic.twitter.com/jVvb0rN6Xd
— Adil Shahzeb (@adilshahzeb) March 9, 2023
گذشتہ روز صحافی کامران خان اپنی ایک ٹوئیٹ کے ذریعے جنرل فیض کا پیغام سامنے لائے تھے جس کے مطابق جنرل فیض نے کہا تھا کہ “2017-18 میں صرف میجر جنرل تھا۔ کیا فوجی ڈسپلن میں تنہا میجر جنرل حکومت ختم کرسکتا تھا؟ 2) فوج میں فیصلہ صرف چیف کا ہوتا ہے؛ 3) تمام فیصلے عدالتوں نے کیے”
سابق ISI سربراہ Lt Gen Faiz نے مریم نواز کی جانب سے ان پر لگے الزامات کے جواب میں مجھے بھیجے گئے messages میں یا دہانی کروائی 1) 2017-18 میں صرف میجر جنرل تھا کیا فوجی ڈسپلن میں تنہا میجر جنرل حکومت ختم کرسکتا تھا؟ 2)فوج میں فیصلہ صرف چیف کا ہوتا ہے 3) تمام فیصلے عدالتوں نے کئے pic.twitter.com/JHnYzkYyYc
— Kamran Khan (@AajKamranKhan) March 8, 2023