ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

روسی لڑاکا طیارہ بین الاقوامی فضائی حدود میں امریکی ڈرون سے ٹکرا گیا

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایک روسی لڑاکا طیارہ منگل کو بحیرہ اسود کے اوپر بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے انٹیلی جنس اور نگرانی سے متعلق ایک امریکی ڈرون سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں ڈرون گر کر تباہ ہو گیا۔

ایک امریکی فوجی اہل کار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بغیر پائلٹ کے ڈورن یو ایس ایم کیو 9 کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ اس واقعہ پر روسی سفیر کو طلب کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اس غیر محفوظ، غیر پیشہ ورانہ مداخلت پر ، جس کی وجہ سے بغیر پائلٹ کے امریکی ڈرون کو گرایا گیا، اپنے سخت اعتراضات پہنچانے کے لیے، ایک بار پھر اعلیٰ سطح پر، روسیوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’روس میں امریکی سفیر لین ٹریسی نے روسی وزارت خارجہ کو سخت پیغام پہنچا دیا ہے۔‘‘


 صدر بائیڈن ، فائل فوٹو

 صدر بائیڈن ، فائل فوٹو

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کو اس واقعہ کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔

کربی نے وائس آف امریکہ کو بتایا، ’’اگر (روس کی طرف سے) پیغام یہ ہے کہ وہ ہمیں بحیرہ اسود کے اوپر بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کرنے اور کام کرنے سے روکنا چاہتے ہیں تو یہ پیغام ناکام ہو جائے گا کیونکہ ایسا ہونے والا نہیں ہے‘‘۔

’’ہم بین الاقوامی پانیوں پر بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز اور کام جاری رکھیں گے۔ بحیرہ اسود کسی ایک ملک کا نہیں ہے اور ہم دنیا کے اس حصے میں اپنی قومی سلامتی کے مفادات کے لیے جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے وہ کرتے رہیں گے‘‘۔

یو ایس یورپی کمانڈ کے مطابق، جو یورپ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے، دو روسی ایس یو ۔ 27 طیاروں نے ’’ایم کیو-9 کے سامنے ایندھن پھینکا اور غیر ذمہ دارانہ انداز میں، ماحول سے مناسبت نہ رکھنے والی، غیر پیشہ ورانہ انداز میں پرواز کی‘‘۔

’’روسی ایس یو ۔ 27 طیاروں میں سے ایک ایم کیو۔9 کے پنکھے سے ٹکرا گیا ، جس کی وجہ سے امریکی افواج کو ایم کیو ۔ 9 کو بین الاقوامی پانیوں میں نیچے لانا پڑا‘‘۔


روسی آئل کمپنی روزنیفٹ کے سی ای او ایگور سیچن، سینٹ پیٹربرگ کی ایک تقریب میں شریک ہیں جب کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔ 24 مئی 2014

روسی آئل کمپنی روزنیفٹ کے سی ای او ایگور سیچن، سینٹ پیٹربرگ کی ایک تقریب میں شریک ہیں جب کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔ 24 مئی 2014

یورپی کمانڈ کا مزید کہنا تھا کہ یہ واقعہ غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ ہونے کے علاوہ اہلیت کی کمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

امریکی فضائیہ کے جنرل جیمز بی ہیکر، کمانڈر، یو ایس ایئر فورسز یورپ اور ایئر فورسز افریقہ نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اس تصادم کی وجہ سے دونوں طیارے تقریباً گر نے کے قریب تھے۔

یورپی کمانڈ نے روسی افواج سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’پیشہ ورانہ اور محفوظ طریقے سے‘‘ کام کریں اور یہ انتباہ کیا کہ اس قسم کی کارروائیاں ’’خطرناک ہیں اور اندازوں کی غلطی اور غیر ارادی تصادم کا باعث بن سکتی ہیں‘‘۔

(وی او اے نیوز)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں