اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بحیرہ اسود اناج راہداری سمجھوتے کی میعاد میں اضافے کے لئے سفارتی و آپریشنل تعاون فراہم کرنے پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سمجھوتے کی میعاد میں اضافے سے متعلق تحریری بیان میں دوجارک نے کہا ہے کہ "22 جولائی 2022 کو استنبول میں طے کئے گئے اناج سمجھوتے کی مدت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔سمجھوتے سے ہمارا مقصد منتخب یوکرینی بندرگاہوں سے اناج اوراناج سے متعلقہ غذائی مادوں اور امونیا جیسی کھادوں کی بحفاظت ترسیل کو ممکن بنانا ہے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ سمجھوتے نے، پہلے 2 مہینوں میں 25 ملین میٹرک ٹن اناج اور غذائی مادوں کو 45 ممالک تک پہنچایا اور اس طرح خوراک کی عالمی قیمتوں کو نیچے لا کر منڈیوں میں استحکام پیدا کرنے میں مدد دی ہے ۔ بحیرہ اسود اناج راہداری سمجھوتے کی میعاد میں اضافے کے لئے سفارتی و آپریشنل تعاون فراہم کرنے پر ہم حکومتِ ترکیہ کے شکر گزار ہیں”۔
دوجارک نے کہاہے کہ سمجھوتے میں روسی غذائی مصنوعات اور کھاد کو عالمی منڈیوں میں متعارف کروانے کی حوصلہ افزائی پر مبنی میمورینڈم بھی شامل ہے ۔ سمجھوتہ ترقی پذیر ممالک کے لئے اور عالمی غذائی سلامتی کے لئے نزاعی اہمیت کا حامل ہے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہم ہر دو سمجھوتوں کے ساتھ بھرپور وابستگی جاری رکھے ہوئے ہیں اور تمام فریقین سے سمجھوتے کے اطلاق کی پابندی کی اپیل کرتے ہیں”۔
واضح رہے کہ اناج راہداری سمجھوتہ 22 جولائی 2022 کو استنبول میں اور ترکیہ، یوکرین، روس اور اقوام متحدہ کے درمیان طے پایا تھا۔
19 نومبر 2022 سے جاری سمجھوتے کی کل سے میعاد پوری ہونے کے بعد اس میں 120 روزہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔