ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان ڈائری

  پاکستان کے معروف صحافی ارشد شریف کو کینیا میں قتل کردیا گیا۔ ان کو پاکستان میں رجیم چینج کے بعد دھمکیاں آنا شروع ہوگئ۔ ان کو قتل کی دھمکیاں دی گئ اور کہا گیا کہ ان کو سر میں گولی ماری جائے گی وہ پاکستان کی آواز تھے لیکن انکو چپ کرادیا گیا۔ وہ پاکستان سے جانا نہیں چاہتے تھے حالات ایسے پیدا کئے گئے کہ انکو ملک سے جانا پڑا وہ اس طرح ملک سے باہر رہے نہیں تھے انکے پاس ویزہ بھی نہیں تھے۔ انکو منظم سازش کے تحت دبئ سے نکلوایا گیا بعد میں کینیا میں انکو قتل کردیا گیا۔ پہلے انکی پاکستان میں نوکری ختم کروائی گئ انکا کوئی کاروبار نہیں تھا وہ یوٹیوب پر آگئے تاکہ اپنے خاندان کی کفالت کرسکیں انہوں نے وہاں بھی بڑے بڑے اسیکنڈل بریک کئے۔ وہ ڈرے نہیں وہ بہت بہادر تھے اپنی زندگی کا آخری دن بھی انہوں نے اشرافیہ کی کرپشن کا پردہ چاک کیا اورتئیس اکتوبر کو جام شہادت نوش کیا۔

ارشد شریف کوئی عام انسان نہیں تھے انہوں نے ہر امتحان امتیازی سند کے ساتھ پاس کیا۔ وہ صاحب علم تھے انکی لائبریری میں ہزاروں کتابیں ہیں۔ وہ کسی بھی اسکینڈل کو بریک کرتے ہوئے اس سے متعلقہ ثبوتوں کو ساتھ رکھتے تھے۔ وہ کسی کے بھی حوالے سے ذاتی نوعیت کی بات نہیں کرتے نا ہی کبھی کسی کی گھریلو زندگی کو ٹی وی پر زیر بحث لائے۔ وہ صرف مالیاتی کرپشن پر بات کرتے تھے۔ مالیاتی اسیکنڈلز کے علاوہ نے ارشد نے پاک افواج کے ساتھ ہر آپریشن کور کیا اور ان قربانیوں کووہ ٹی وی یوٹیوب پر لائے تاکہ پاکستان کی نئ نسل کو یہ بات معلوم ہوکہ اس ملک سے دہشتگردی کو ختم کرنے کے لئے مسلح افواج ان کے خاندانوں اور پاکستانی عوام نے کتنی قربانیاں دی۔ ارشد بھی ان شہیدوں میں سے ہے جنہوں نے اس وطن کی خاطر اپنی جان دی۔ وہ کرپشن کے خلاف جہاد کررہے تھے۔ حب الوطنی ان کے خون میں تھی انکے والد نیوی کمانڈر شریف نے پینسٹھ اور اکہتر کی جنگوں میں حصہ لیا۔ ان کے بھائی میجر ڈاکٹر اشرف شریف شہید آرمی میں ڈاکٹر تھے اپنے فرایض کی ادائیگی کے دوران شہادت پائی۔ میری ساس رفعت آرا علوی نے یہ صدمات ایک ہی دن برداشت کئے ۔ہمارا خاندان ان سانحات سے گزرنے کے باوجود چٹان کی طرح کھڑا رہا اور مزید سب نے اپنے آپ کو ملک کی ترقی کے لئے وقف کردیا۔ ارشدنے اپنے صحافتی کرئیر کا ایک بڑا حصہ انہوں مسلح افواج کی قربانیوں کو اجاگر کرنے میں وقف کردیا۔ ارشد شریف نےآپریشن آل میزان، آپریشن شیر دل ، آپریشن راہ نجات، آپریشن ضرب العضب، آپریشن رد الفساد کور کیا۔ اسکے ساتھ وہ سلالہ ، سیاچین، مشرقی مغربی باڈر، کشمیر، بالاکوٹ، چکوٹی اور گوادر بھی گئے۔ انہوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کا مقابلہ کیا اور یہاں تک افغانستان میں کوریج کے دوران طالبان نے انکو اغوا کرلیا۔ تاہم اس وقت انکی زندگی باقی تو وہ ہم میں واپس آگئے۔ اسکے ساتھ روس چین ناروے فرانس بلجئیم برطانیہ دیگر ممالک سے بھی رپورٹنگ کی۔ تاہم جو وہ اگست میں گئے تو لوٹ کر واپس نہیں آسکے۔ وہ تنہا تھے غریب الوطنی میں انکا قتل ہوا۔ میرے لئے یہ سانحہ بہت تکلیف دہ تھا اور رہے گا۔ شوہر کا یوں چلے جانا یہ ایک ایسا زخم ہے جو بھر نہیں سکتا۔ وہ ایک ایسی آواز تھے جن سے پاکستان کے دشمن بھی ڈرتے تھے۔ ہندوستان نے انکے خلاف اپنے ملک میں مقدمہ درج کیا اور ہندوستان نے ٹویٹر کو درخواست دی کہ ان کا ٹویٹر اکاونٹ بند کردیا جائے۔ وہ بہت محب وطن تھے ہمیشہ پاکستان مخالف بیانیہ اڑا کر رکھ دیتے تھے ۔

تاہم اپریل کے بعد سے ہمارے لئے چیزیں بدل گئ ارشد پر سولہ ایف آئی آرز درج ہوگئ ان پر بغاوت غداری کے سولہ پرچے کروائے گئے۔ ارشد کو سر میں گولی مارنے کی دھمکی دی، ارشد شریف کا پروگرام اے آروائی نیوز پر بند کروایا انکی نوکری ختم کروائی گئ پھر انکا سابقہ چینل کیبل پر بحال ہوا۔ ایک متن پر لکھی ہوئی ایف آئی آرز پورے پاکستان میں درج ہوئی کوئی بھی چائے پیتا ہوا ڈھابے سے پولیس اسٹیشن جاتا اور ارشد کے خلاف ایف آئی آر درج کروادیتا۔ ملک بدر کروایا گیا دبئ سے نکلوایا گیا پوری پلاننگ کے ساتھ کینیا میں قتل کروایا گیا۔ ان کی تصاویر جائے وقوعہ سے تصاویر لیک کی گئ ان کی تصاویر ہسپتال سے لیک کی گئ۔ ہمارے لئے زندگی مشکل کردی گئ ہر وقت جاسوسی ہراسانی کسی بھی انسان کے لئے تکلیف دہ ہوتی ہے۔ ہمیں ارشد کے جانے کا غم نڈھال کرگیا تاحال پاکستان اور کینیا میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ انصاف میں تاخیر لواحقین کو مزید زندہ درگور کردیتی ہے۔ ارشد سے زیادہ کوئی محب وطن نہیں آج بھی ایچ الیون قبرستان میں انکی قبر پر پھول کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ میں انصاف کے لئے سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہی ہوں۔ اقوام متحدہ میں بار بار اپیل کررہی ہوں کہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کی نگرانی کریں اور ہمیں انصاف دیں ۔ پاکستان دبئ اور کینیا میں ارشد کے قاتلوں سہولت کاروں کو سامنے لائیں۔

میرے کچھ سوال ہیںْ

ارشد کو پاکستان میں کس نے سر میں گولی مارنے کی دھمکی دی تھی ؟

ارشد شریف پر سولہ ایف آئی آرز کس نے کروائی زیادہ تر ایف آئی آرز کا متن ایک جیسا کیوں تھا ؟

ارشد کو دئبی میں کون سے پاکستانی اور اماراتی افسر نے دبئ چھوڑے پر مجبور کیا ؟

ارشد شریف کا شو کس نے بند کروایا اسکو کو نوکری سے کس نے نکلوایا؟

انہوں نے آزربئجان کا ویزہ ہونے کے باوجود کینیا جیسے غیر محفوظ ملک کا انتخاب کیوں کیا ؟

مگاڈی کے فارم ہاوس میں اور کون کون لوگ موجود تھے ؟

پولیس نے گولیاں ٹائر پر مارنے کے بجائے ارشد کی طرف کیوں چلائیں ؟

جب ارشد شریف کو گولیاں ماری گئ تو خرم احمد انکو ہسپتال کے بجائے فارم ہاوس کیوں لے گئے ارشد کی جان بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی گئ ؟

ان جی ایس ایو اہلکاروں جنہوں نے ارشد پر گولیاں چلائی کیا اس کے لئے انکو کوئی رقم دے گئ تھی انکو اب تک سزا کیوں نہیں دی گئ؟

پولیس اہلکاروں نے گاڑی کے ٹائر یا ڈرائیور کے بجائے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ارشد کا نشانہ کیوں لیا؟

کیا ارشد شریف کے میزبانوں اور ان جے ایس یو اہلکاروں کے فونز کے فرانزک کے گئے؟

 اس دن کا سی سی ٹی وی فوٹیج کہاں ہے ؟

جائے وقوعہ سے کس نے تصاویر میڈیا سوشل میڈیا پر پھیلائیں ؟

پمز ہسپتال سے ارشد کی تصاویر میڈیا کو کس نے بیچی کیا ؟

ارشد کے پاس آئی فون لیپ ٹاپ اور ایک آئی پیڈ تھا وہ کہاں ہے ؟ان ک حاصل کرکے انکا فرانزک اقوام متحدہ سے کروایا جائے۔

ارشد شریف نے سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا تو انکی شنوائی کیوں نہیں ہوئی ؟

میری ساس کی مدعیت میں ایف آئی آر کیوں نہیں درج ہوئی اب پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے کوئی گرفتاری عمل میں کیوں نہیں آئی ؟

یہ کوئی غلط فہمی کے بنا پر قتل نہیں ہے اس قتل کی سازش پاکستان میں تیار ہوئی اور اسکو مکمل کینیا میں کیا گیا۔ یہ کس نے کیا کیوں کیا

ان سوالات کے جوابات میں قاتل مل جائیں گے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں