ترکیہ نے ڈنمارک میں قرآن مجید اور ترکیہ کے پرچم کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے اعادہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہماری مقدس کتاب قرآن پاک اور ڈنمارک میں ہمارے شان و شوکت والے پرچم کے خلاف 24 مارچ کو کیے گئے نفرت انگیز جرم کا ماہ رمضان میں آج دوبارہ ارتکاب کی اجازت دیے جانے کی ’’ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ "
ہم اس بات پر دوبارہ سے زور دیتے ہیں کہ "اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اس گھناؤنے اقدام کی اجازت دیے جانےکو ہم ہر گز قبول نہیں کرتے اور اس طرز عمل کو کبھی بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔” اور اس غلطی پر اصرار کو بھی درج کر لیا گیا ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس طرح کی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے قانونی اور انتظامی اقدامات کے فقدان اور سیاسی قوت ارادی کی کمی کے ساتھ ساتھ مجرمین کو سزا نہ دیے جانے سے نئی اشتعال انگیزیوں کی حوصلہ افزائی کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔
"یہ کارروائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یورپ میں حال ہی میں اسلام دشمنی، زینو فوبیا، امتیازی سلوک اور نسل پرستی میں اضافہ ہوا ہے۔ نفرت انگیز جرائم کی ایسی کارروائیاں ہر اس شخص پر حملہ بھی ہیں جو رواداری، پرامن بقائے باہمی اور جمہوری اقدار کی مفاہمت پر یقین رکھتا ہے۔ ایسی گھناونی حرکات پر آنکھیں بند رکھنا ایک تشویش ناک بڑی حماقت ہے۔
ڈنمارک کے انقرہ میں سفیر (ڈینی عنان) کو وزارت خارجہ طلب کرتے ہوئے ہم نے مذکورہ قابل نفرت حملے کی شدید مذمت اور احتجاج کا پیغام دیا ہے۔ ہم ڈنمارک کے حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس جرم کے مرتکب افراد کے خلاف ضروری کارروائی کریں اور اس طرح کی اشتعال انگیزیوں کے دہرائے جانے کا سد باب کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔”
واضح رہے کہ کل ڈنمارک میں ترکیہ کے کوپن ہیگن سفارتخانے کے سامنے ترک پرچم اور قرآن کریم کی بے حرمتی کی گئی تھی۔