لاہور: عدالت عالیہ کے جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اورسابق وزیر اعظم عمران خان اوردیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف ظل شاہ قتل اور جلاؤ گھیراؤ سمیت 10 مقدمات کی تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی کوفوری طور پر کام سے روکنے کی استدعا مستردکردی۔
عدالت نے پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 10اپریل کوتحریری وضاحت طلب کرلی ہے۔دوران سماعت تحریک انصاف کے وکیل نے مؤقف اختیار کی پولیس نے عمران خان سمیت 11 رہنماؤں کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد 10 مقدمات درج کیے ہیں اور ان مقدمات کی تحقیقات کے لیے پنجاب کی حکومت نگران حکومت کی جانب سے جے آئی ٹی کی تشکیل کردی گئی ہے جو کہ بدنیتی پر مبنی ہے اوراسی بنیاد پر جے آئی ٹی کو فوری طور پر کام سے روکا جائے اور آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور فواد چودھری سمیت 11 نامزد پی ٹی آئی رہنماں نے پنجاب حکومت کی جے آئی ٹی کو چیلنج کیا۔عمران خان اور دیگر رہنماں نے اپنے وکیل سکندر ذوالقرنین اور ظفر اقبال منگن کے توسط سے لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پولیس نے عمران خان سمیت 11 رہنماؤں کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد 10 مقدمات درج کیے، ان مقدمات کی تحقیقات کے لیے پنجاب حکومت کی ہدایت پر ہوم سیکرٹری پنجاب نے جے آئی ٹی بنادی۔
درخواست میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی میں کن مقدمات کی تحقیقات ہو رہی ہیں مکمل تفصیلات سے لاعلم ہیں۔ ظل شاہ سمیت دیگر مقدمات بے بنیاد بنائے گئے، ہمارے پاس ظل شاہ قتل سمیت دیگر مقدمات کے تمام شواہد، ثبوت اور گواہ موجود ہیں۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت جے آئی ٹی کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔
