اسلام آباد :پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر یاسر عرفات نے قومی کرکٹ ٹیم کیلے غیر ملکی کوچنگ اسٹاف لانے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی کوچنگ اسٹاف زیادہ تجربہ نہیں، مکی آرتھر نے انہیں باولنگ کوچ بنانے کی پیشکش کی تھی ، پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کرنا میرے لے اعزاز ہوگا ۔
ایک انٹرویو میں ای سی بی لیول 4کے کوالیفایڈ کوچ یاسر عرفات نے کہا کہ مکی آرتھر نے انگلینڈ میں مجھ سے ملاقات کی اور ہم نے پاکستان کرکٹ کے بارے میں طویل گفتگو کی، میں نے انہیں اپنی کوچنگ پلاننگ بتا دی تھی جس پر مکی آرتھر نے مجھے بتایا کہ وہ میرا نام قومی ٹیم کے بالنگ کوچ کے طور پر دے رہے ہیں کیونکہ انہیں کوچنگ ٹیم بنانے کا اختیار دیا گیا تھا لیکن پی ایس ایل کے بعد مجھے بتایا گیا کہ انہیں تجربے کی ضرورت ہے اور بجٹ کے کچھ مسائل ہیں اس لیے میں اب ان کے خیال میں نہیں تھا جو میرے لے حیران کن تھا کیونکہ میں نے پاکستان شفٹ ہونے کا منصوبہ شروع کر دیا تھا۔
غیر ملکی کوچنگ اسٹاف کے بارے میں یاسر عرفات نے کہا کہ وہ زیادہ تجربہ نہیں،مورنے مورکل کو کوچنگ کا زیادہ تجربہ نہیں وہ 2019میں کھیل رہے تھے جب میں سرے کے ساتھ بطور کوچ کام کر رہا تھاجبکہ پوٹک اور بریڈ برن بھی اتنے تجربہ کار نہیں ہیں، یاسر عرفات کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر پاکستان کی خدمت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی، میں پی سی بی سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا یہ غیر ملکی کوچ پاکستان شفٹ ہونے جا رہے ہیں؟ کیونکہ اگر مجھے موقع دیا جاتا تو میں مستقل طور پر پاکستان میں کام کرتا۔
