کراچی: سندھ اسمبلی نے اپوزیشن کے شدید شور شرابے اور احتجاج کے دوران عدالتی فیصلے کے خلاف اور پورے ملک میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کی قراردادمتفقہ منظور کرلی گئی، بعدازاں اسپیکرنے قرارداد کی منظوری کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا۔
پیپلز پارٹی کے گنہور اسران کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین سپریم دستاویز ہے اور آئین کی پاسداری کرنا ہر ادارے کا فرض ہے۔ آئین کے آرٹیکل 176 کے تحت سپریم کورٹ پاکستان کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز ہیں اور آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت اختیارات معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس ہیں نہ کہ کسی خاص جج کے پاس ۔
انہوں نے کہاکہ حال ہی میں پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق ایک فیصلے کی وجہ سے ایک تنازعہ کھڑا ہوا ہے جس میں چار معزز ججز نے سوموٹو کو برخاست کر دیا ہے جبکہ تین معزز ججوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایات جاری کی ہیں۔
قرار داد میں کہا گیا کہ یہ قانون کا ایک طے شدہ اصول ہے کہ فیصلے اکثریت کے ذریعے کیے جاتے ہیں اور اقلیت کے فیصلے اکثریت کی رائے پر غالب نہیں آسکتے ہیں۔ یہ اس تقدس کے مفاد میں ہے جو ہمارے آئین میں عدلیہ کو دیا گیا ہے کہ اکثریت کا نظریہ غالب ہو۔ یہ کہ صرف پارلیمنٹ ہی آئین میں ترمیم کر سکتی ہے اور تعبیر کے ذریعے معزز ججز آئین میں الفاظ نہیں ڈال سکتے اور نہ ہی اسے دوبارہ لکھ سکتے ہیں۔
