اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اشیا ضروریہ کی اسمگلنگ کے انسداد کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹس کے قیام کی منظوری دے دی ۔
جمعہ کو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی زیر صدارت گندم، چینی، کھاد و دیگر اشیائے ضروریہ کی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی کا تیسرا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں وزیر تجارت سید نوید قمر، وزیر صنعت مخدوم مرتضی محمود، معاون خصوصی برائے ریونیو طارق محمود پاشا،سیکرٹری داخلہ سید علی مرتضی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو آصف احمد اور وفاقی و صوبائی اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی ملک سے باہر سمگلنگ نا صرف ہماری فوڈ سیکیورٹی بلکہ نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، اس مکروہ عمل کو روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے ہوں گے، تاکہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی قلت سے بچا جا سکے اور ان اشیا کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ نہ ہو۔
وزیردفاع نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور ہمیں اس کے انسداد کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی ہمیں اس کی روک تھام کیلئے سخت فیصلے لینے ہوں گے۔
اجلاس میں پولیس، کسٹم اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مشتمل جوائنٹ چیک پوسٹس کے قیام کی منظوری دی گئی سیکریٹری داخلہ علی مرتضی نے شرکا کو پچھلے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں پر پیش رفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جوائنٹ پٹرولنگ کا بھی آغاز جلد کر دیا جائے گا۔
ایف بی آر میں اشیائے ضروریہ کی سمگلنگ کے حوالے سے سنٹرل ڈیٹا سیل کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔
سرحدی اضلاع میں اشیائے ضروریہ کی ڈیمانڈ اور سپلائی کے حوالے سے سروے کا آغاز کیا جا چکا ہے، تاکہ ان اضلاع میں غیر ضروری سپلائی کو روکا جا سکے، اشیائے ضروریہ کی سمگلنگ کو موثر طریقے سے روکنے کیلئے قوانین میں ترامیم کا بھی آغاز کیا جا چکا ہے۔
