ترکیہ نے ڈنمارک میں قرآن پاک اور ترک پرچم پر حملے کی مذمت کی ہے۔
وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ” ہم ایک بار پھر، ہم اپنی مقدس کتاب، قرآن اور اپنے شاندار پرچم پر ہونے والے گھناؤنے حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ہماری تمام تنبیہات کے باوجود آزادی اظہار کی آڑ میں گھناؤنے حملوں کی اجازت دینا ناقابل قبول ہے۔”
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر ترکیہ کے موقف سے انقرہ میں ڈنمارک کے سفیر کو آگاہ کیا گیا ہے، اسلامو فوبیا اور غیر ملکی دشمنی جو حال ہی میں یورپ میں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے کی تازہ مثال ہونے والے اس گھناونے فعل اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف ہماری کثیر جہتی پلیٹ فارمز اور دو طرفہ طور پر کوششوں کا سلسلہ بلا شبہہ جاری رہے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس معاملے پر ڈنمارک کا حالیہ بے حسی کا موقف مسلم امہ مسلمانوں کے ردعمل کا موجب بنا ہے اور اربوں لوگوں کی تکلیف کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔
بیان میں رمضان المبارک کے دوران جاری اس قسم کی اشتعال انگیزیوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جانے کے مطالبے کا اعادہ کیا گیا ہے۔
ڈنمارک میں قرآن اور ترک قومی پرچم پر بار بار حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر دفاع خلوصی آقار نے کہا کہ اس کی وضاحت انسانی حقوق، آزادی فکر، تہذیب اور جدیدیت سے نہیں کی جا سکتی۔ ہم متعلقہ حکومتوں اور وزارتوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ فوری ایکشن لیں گے۔”
خیال رہے کہ ڈنمارک میں ترکیہ کے کوپن ہیگن سفارتخانے کے سامنے ترک پرچم اور قرآن کریم کی بے حرمتی کی گئی تھی۔