فرانس میں تنازعات اور احتجاج کا باعث بننے والے ریٹاَئرمنٹ اصلاحاتی قانون کو صدر ایمانوئل میکرون کے دستخط کے بعد سرکاری گزٹ میں شائع کر دیا گیا ہے۔
آئینی کونسل کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی عمر کو 62 سے بڑھا کر 64 کرنے کی منظوری کے بعد، زیر بحث قانون پر میکرون نے دستخط کیے اور اسے سرکاری گزٹ میں شائع کیا گیا۔
اس اصلاحات کے نفاذ سے ملک میں 2030 تک ریٹائرمنٹ کی عمر بتدریج بڑھ کر 64 ہو جائے گی۔
کونسل کے اس فیصلے پر ملک میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ میکرون ہفتے کے آغاز میں ایک بیان دیں گے۔
دوسری جانب گزشتہ روز یونینز نے میکرون کی ایلیسی پیلس میں ملاقات کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یکم مئی تک حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے۔
کونسل کے فیصلے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے ردعمل سامنے آیا۔ فرانسیسی شہری پیرس، لیون، رینس اور نانٹیس سمیت پورے ملک میں سڑکوں پر نکل آئے۔
دارالحکومت پیرس میں مظاہرین نے کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا دی اور سرکاری املاک کو تباہ کو نقصان پہنچایا۔ نانٹیس میں اصلاح پسندوں نے گورنر کے دفتر پر شیشے کی بوتلیں پھینک دیں۔ رینس کی سڑکوں پر انتشار کے واقعات سامنے آئے۔
فرانس میں حکومت کی جانب سے ووٹنگ کے بغیر ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سے بڑھا کر 64 سال کرنے پر مبنی بل کو منظور کرنے کے فیصلے کے بعد 16 مارچ کو ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع ہو ئے تھے۔
ملک کے کئی حصوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان پر تشدد واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
16 مارچ سے ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
اپوزیشن اور حکومت نے مذکورہ اصلاحات کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کا تعین کرنے کے لیے آئینی کونسل سے رجوع کیا تھا۔
کونسل نے کل اس مسودہ قانون کے آرٹیکل کی منظوری دی جس میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو 64 تک بڑھا دیا گیا ہے اور اس نے 6ویں آرٹیکل کو مکمل یا جزوی طور پر مسترد کر دیا تھا۔