ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارت: بٹھنڈا ملٹری اسٹیشن میں چار فوجیوں کو قتل کرنے والا ساتھی اہلکار پکڑا گیا

بھارت کی ریاست پنجاب کے بٹھنڈا ملٹری اسٹیشن میں چار اہلکاروں کی ہلاکت کے معاملے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کے پانچ روز بعد ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس اور فوجی افسران نے بتایا ہے کہ ملٹری اسٹیشن میں فائرنگ کرنے والا فوجی اہلکار ہی تھا جس کی شناخت دیسائی موہن کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس اور فوج کے بیان کے مطابق ملزم ملٹری اسٹیشن میں سیکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی انجام دیتا ہے جس نے 12 اپریل کو اس وقت اپنے چار ساتھیوں پر فائرنگ کی جب وہ سو رہے تھے۔

ملزم کی فائرنگ سے مرنے والوں میں آرٹلری ڈویژن کے اہلکار یوگیش کمار، ساگر بانی، کملیش اور سنتوش نگارال شامل تھے جن کی عمریں 24 سے 25 برس کے درمیان تھیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے ذاتی رنجش کے نتیجے میں ساتھی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔ البتہ ‘ٹائمز آف انڈیا’ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دیسائی موہن کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس پر وہ انتقام لینا چاہتے تھے۔


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پنجاب پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم نے اپنا بیان قلم بند کراتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے کے روز اس نے فوجی بیرک میں ماسک پہنے دو افراد کو دیکھا تھا جن کے ہاتھ میں بندوق اور کلہاڑی تھی۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی )بٹھنڈا گلنیت سنگھ کھرانہ اور کرنل انیمیش شاران نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم دیسائی موہن نے تفتیشی حکام کو کہانی گھڑتے ہوئے بتایا تھا کہ اس نے حملے کے وقت وہاں کرتا پاجامے میں ملبوس دو افراد کو دیکھا تھا۔

پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے دوران اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ یہ دہشت گرد حملہ نہیں بلکہ اندر سے کی جانے والی کارروائی ہے۔ جس کے بعد دس اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی گئی جن میں موہن بھی شامل تھے۔

پولیس کا کہنا ہے دورانِ تفتیش موہن نے دو مرتبہ اپنا بیان تبدیل کیا جس کے بعد اس نے ساتھی اہلکاروں کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کر لیا۔


پولیس نے امرت پال سنگھ کی کئی تصاویر جاری کی ہیں۔

پولیس نے امرت پال سنگھ کی کئی تصاویر جاری کی ہیں۔

پولیس کے مطابق موہن پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے واقعے سے تین روز قبل یعنی نو اپریل کو ایک رائفل اور 28 راؤنڈز چوری کیے جسے اس نے دو روز تک چھپائے رکھا۔ بعدازاں 12 اپریل کی علی الصباح تقریباً پونے پانچ بجے اس نے ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

موہن نے دورانِ تفتیش پولیس کو بتایا کہ اس نے رائفل اور گولیاں ایک کپڑے اور پلاسٹک بیگ میں بند کرنے کے بعد اسے اپنی یونٹ سے دور گندے نالے میں چھپا دیا تھا۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے گولیوں کے 19 خول ملے ہیں جب کہ سات گولیاں استعمال نہیں ہوئیں اور دو گولیوں کا اب تک سراغ نہیں مل سکا۔

پولیس نے ملزم کا موبائل فون بھی قبضے میں لے کر اسے فرانزک کے لیے بھیج دیا ہے تاکہ یہ پتا لگایا جا سکے آیا ملزم کے ساتھ کون کون رابطے میں تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں