سوڈان میں جھڑپوں میں اب تک 185 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
سوڈان میں اقوامِ متحدہ کے نمائندے واکر پرتھیس نے اس حوالے سے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ فریقین نے اب تک بات چیت کے لیے آمادہ ہونے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے جبکہ سلامتی کونسل نے سوڈان کی صورت حال پر بند کمرے کا اجلاس منعقد کیا ہے۔
دوسری جانب،یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے بتایا کہ سوڈان میں تعینات یورپی یونین کے سفیر ایڈن اوہارا کے خرطوم میں واقع گھر پر حملہ کیا گیا ہے۔
جوزف بوریل نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ کچھ گھنٹے قبل سوڈان میں یورپی یونین کے سفیر کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا ہے، سفارتی احاطے اور عملے کی حفاظت بین الاقوامی قانون کے تحت سوڈانی حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
یاد رہے کہ سوڈان میں فوج اور پیرا ملٹری قوتوں کے درمیان جھڑپیں ہفتے سے جاری ہیں۔