اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانیو الے معاہدے کے تحت ترکی سے دس سال تک رعایتی ڈیوٹی و ٹیکسوں پر 133 اشیاء و آلات اور خام مال درآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ان اشیاء کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی میں میں رعایت ہوگی ترکیہ سے رعایتی ڈیوٹی پر اشیاء کی درآمد کا اطلاق یکم مئی 2023 سے ہوگا۔
مزید تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ وزارت تجارت پہلے ہی تیرہ اپریل2023 کو ایس آر او کے ذریعئے پاکستان،ترکیہ ٹریڈ ان گڈز ایگریمنٹ(ٹی جی اے)رولز2023جاری کئے جاچکے ہیں ۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان معاہدے کے تحت اگلے دس سال کیلئے ترکیہ سے رعایتی ڈیوٹی پر اشیاء درآمد کی جاسکیں گی اور نوٹیفکیشن میں یکم مئی 20.33 تک کیلئے سالانہ بنیادوں پر رعایتی کسٹمز ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کی شرحوں کا اعلان کیا گیا ہے ۔
پہلے سال یکم مئی 2023 سے رعایتی ڈیوٹی و ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کا اطلاق ہوگا جس کے تحت بلیک ٹی کوکا پاوڈر،فوڈ انڈسٹری میں استعمال ہونے والے مختلف فلیورز ،چیونگم کی مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والے گم بیسڈ میٹریل سمیت دیگر اشیاء صفر کسٹمز ڈیوٹی اور دو فیصد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی پر درآمد کی جاسکیں گی ۔
نوٹیفکیشن میں اگلے دس سال کیلئے رعایتی ڈیوٹی و ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کی شرحوں کا تعین کیا گیا ہے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یکم مئی 2023 سے پہلے سال ترکیہ سے سیب،انار، شیلڈزایریٹڈ واٹر،چاکلیٹ،فیس اور سکن کریم،لوشنز،پولیتھیلین،پیپر اور پیپر بورڈ،کینولہ سمیت دیگر اشیاء کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کی شرح دس فیصد جبکہ ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹٰ کی شرح سات فیصد لاگو ہوگی ۔
اسکے علاوہ کارن فلیکس اور شیمپو کی درآمد پر سولہ فیصد کسٹمز ڈیوٹی جبکہ ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی صفر ہوگی،گلوکوز اور گلوکوز سیرپ اور آئی ڈراپس،مچھر مار کوائلز،باکسز اور مختلف کیسز کی رآمد پر سولہ فیصد کسٹمز ڈیوٹی،5.83 فیصد ایڈیشنل کسٹمز ڈیو ٹی لاگو ہوگی ۔
کتے اور بلیوں کی خوراک کی درآمد پر16.67 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور7 فیصد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی عائد ہوگی کھل کی درآمد پر ساڑھے پانچ فیصد کسٹمز ڈیوٹی اوردو فیصد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی لاگو ہوگی ۔
اسکے علاوہ بھی دیرگ اشیاء کی رعایتی کسٹمز ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کی ادائیگی پر درآمد کی اجازت دی گئی ہے
