سن 1915 میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر، شام، جو سلطنت عثمانیہ کا علاقہ تھا اور جہاں آرمینیائی باشندوں کو جلاوطن کیا گیا تھا، کو سلطنت عثمانیہ سے الگ کیے جانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ تاہم آرمینیائی باشندوں میں سے کچھ جو ملک بدری اور آبادکاری کے ذریعے ملک کے اندر بے گھر ہوئے اور جرم ثابت ہونے والے بعض دہشت گردوں نے ملک میں مزید نہ رہ سکنے کو بھاپنتے ہوئے مغربی ممالک کو راہِ فرار اختیار کی۔ اس طریقے سے ترکیہ کے اندر دہشت گردی کی کاروائیاں شروع ہو گئیں اور جرم پیشہ افراد کی قیادت کا حامل آرمینی ڈیاسپورا معرض وجود میں آیا اور اس ڈھانچے کے اندر گروپ بندی کرنے والے مزاحمتی گروہوں نے اس دور میں ہی "نام نہاد آرمینی نسل کشی” پراپیگنڈا مہم شروع کر دی ترکیہ کے خلاف اس پہلی ڈیاسپورا تحریک نے آرمینی فیتے کو آگ لگائی اوراس کالے پراپیگنڈا کو ، جو کہ تاریخی حقائق کے برخلاف ہے، خاص طور پر بعض مغربی ممالک کی جانب سے ایک سفارتی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا اور اسے عالمی سطح پر ایجنڈے میں لاتے ہوئے بڑھایا چڑھایا گیا۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد ترکیہ کی جانب سے سیور جبری معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے قومی جہدو جہد کو شروع کرنے اور اس میں سرخرو ہونے نے ایتلاف مملکتوں کے ترکیہ کا بٹوارہ کرنے کے منصوبوں کو ملیا میٹ کر دیا۔ ترکیہ نے پہلی جنگ عظیم کے دوران شکست سے دوچار شمار کیے جانے والے ممالک میں خود مختار مملکتی سرحدوں کا بذات خود تعین کرنے والے واحد ملک کی حیثیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ تا ہم اب کی بار طاقت کے بل بوتے پر وقوع پذیر نہ ہوسکنے والے منصوبوں کو نرم گوشہ طاقت اور سفارتی دباو کے ذریعے عملی جامہ پہنانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ ان ایام میں آرمینی غیر قانونی مزاحمتی گروہ اوراس کے دہشت گردی کی بنا پر سالہا سال سے سر زد کردہ آئینی جرائم عیاں تھے۔یہ تاریخی حقائق ہیں جن کا مجرمانہ ریکارڈ اور کھلے عوامی ذرائع میں موجود دستاویزات کے ساتھ ثبوت ملتا ہے۔
ڈیاسپورا اور اس کے اتحادیوں کا مقصد سیور کو مسترد کرتے ہوئے اس کی جگہ لوازان معاہدے کی بدولت بین الاقوامی سطح پر اپنے وجود کو تسلیم کرانے والے جمہوریہ ترکیہ کی سفارتی ناکہ بندی کر کے Sèvres کی دفعات کو زندہ رکھنا تھا ۔ مثال کے طور پر لوزان کے 13 دن بعد ترکیہ اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا ترک امریکن لوزان معاہدہ امریکی سینیٹ سے منظور نہ ہوا۔ توثیق کی جدوجہد کے دوران جو تقریباً چار سال تک جاری رہی، ایک لابی گروپ نے جس کی سربراہی ایک سابق عثمانی باشندہ اور ڈیاسپورا آرمینیی ہان کاردشیان کر رہا تھا نے احتجاجی کاروائیوں ، پریس مہم اور لابی کاروائیوں کے ذریعے معاہدے کی توثیق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔
خود مختاری اور آزادی حاصل کرنے والی اور سفارتی تعلقات کو نیا نیا قائم کرنے والی ایک جمہوریہ کے لیے اس قسم کے دباو کو خاص طور پر اس دور میں سیور پر دوبارہ سے عمل درآمد کر سکنے والے ایک آلہ کار کے طور پر تصور کیا گیا۔ اگرچہ آرمینیا جو اسوقت بالشویکوں سے منسلک ایک سوویت جمہوریہ ہے نے ڈیاسپورا آرمینیائی باشندوں کے بل بوتے پر "عظیم تر آرمینیا” کے خواب کے ساتھ اپنا فاشسٹ رویہ جاری رکھا اور ترکیہ اور آذربائیجان کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا۔ ڈیاسپورا اور اس کے حامیوں کے سیاہ پروپیگنڈے کا جواب اس عرصے میں جمہوریہ ترکیہ کے پرعزم موقف کے ساتھ دیا گیا اور یہ اپنے مذموم عزائم تک نہ پہنچ سکا۔
قیامِ جمہوریہ ترکیہ کے بعد کے سالوں میں آرمینی ڈیا سپورا پروپیگنڈے میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہو گیا۔ یہ جہت "ایک نام نہاد نسل کشی انڈسٹری” ہے جو آن لائن اور ڈیجیٹل پلیٹ فورموں پر ثقافتی، فنّی، سائنسی اور ڈپلومیسی شعبوں میں اس پروپیگنڈے کو پھیلا رہی ہے۔
ترک ڈپلومیسی کی موئثر کاروائیوں کی بدولت اس بات کے اثبات کے بعد کہ جمہوریہ ترکیہ علاقے میں قدیم وجود رکھتا ہے اور اس وجود کو برقرار کھا جائے گا آرمینی ڈیاسپورا کے دعوے اور پروپیگنڈے کو کمزور پڑ گئے۔ 1960 کی دہائی میں ترکیہ کو ایک طرف سرد جنگ کا اور دوسری طرف مسئلہ قبرص کا سامنا تھا۔مصّمم شکل میں جاری 1974 قبرص پر امن کاروائی پر بعض مغربی ممالک ردعمل کا اظہار کر رہے تھے۔اس دور میں منظر عام پر آنے والی آرمینی دہشت گرد تنظیم ASALA آرمینی دہشت گردی دور کا ایک نیا کردار تھی جو ترک سفارت کاروں اور شہریوں کو نشانہ بنا رہی تھی۔
نام نہاد نسل کشی اور ڈیاسپور انڈسٹری اور ترکیہ کے ساتھ متناقض سیاسی اہداف والی مختلف ساختوں نے باہمی اتحاد کر لیا ۔ نام نہاد نسل کشی اور ڈیاسپور انڈسٹری کا یہ اتحاد ایک طرف دہشت گردانہ کاروائیاں کر رہا تھا تو دوسری طرف غیر حقیقی دعووں کوباقاعدہ مہموں کے ذریعے پھیلا رہا تھا۔ترکیہ کا اس معاملے میں موقف غازی مصطفیٰ کمال کے دور سے ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ مسئلہ” نام نہاد”ہے۔ آرمینی ڈیا سپورا کمیٹیاں نہ صرف ترکیہ کی مسئلے کے حل کے لئے کی گئی کوششوں کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہیں بلکہ اسے ترکیہ کے خلاف بطور ایک ہتھکنڈہ بھی استعمال کر رہی ہیں۔
غازی مصطفیٰ کمال نے اس معاملے میں آج سے تقریباً ایک سو سال قبل جو بات کہی تھی اس کی بازگشت آج بھی جاری ہے:
"بلاشبہ آرمینی فریق کی طرف سے موضوع کے بارے میں ادا کردہ الفاظ غیر حقیقی ہیں۔اس کے بالکل برعکس جنوبی علاقوں میں غیر ملکی طاقتوں کی طرف سے مسلح کئے گئے آرمینیوں نے اپنے پشت پناہوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ اپنے علاقوں میں مسلمانوں پر حملے کئے۔ یہ آرمینی جتھے انتقامی سوچ کے ساتھ قتل کرنے اور ختم کرنے کی سیاست پر عمل پیرا تھے۔ ضلع ماراش کے المناک واقعے کی وجہ بھی یہی تھی۔غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ اتحاد بنانے والے آرمینیوں نے توپوں اور بھاری اسلحے کے ساتھ ماراش جیسے قدیم مسلمان شہر کو تہس نہس کر دیا۔ہزاروں نہتی اور بے یارو مددگار ماوں اور بچوں کو تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔ اس 20 روزہ قتل عام کے بارے میں، مقامی مسلمانوں کے ہمراہ یہاں مقیم امریکیوں کیطرف سے، امریکہ کے استنبول نمائندہ دفتر کو بھیجاگیا ٹیلی گرام اس قتل عام کے فاعلوں کو سامنے لانے والا ایک ایسا ثبوت ہے کہ جس کی تکذیب نہیں کی جا سکتی”۔
1927 غازی مصطفیٰ کمال کی تصنیف "نطق "سے اکتساب
"ترکوں کی طرف سے آرمینیوں کا قتلِ عام ( ترکوں کی طرف سے سر زد کیے جانے کا دعوی کردہ نام نہاد آرمینی نسل کشی) ایک من گھڑت کہانی ہے اور اس سے قبل پھیلائے جھوٹ کے پلندوں اور تہمتوں پر مبنی ہے۔ یہ دعوے ہرگز درست نہیں ہیں۔ اس حقیقت کو دستاویز شکل دینے کے لیے ہمارے وطن میں آزادی کمال (مکمل طور پر آزادی) کے ذریعے تحقیقات کرنے کے لیے ہم غیر جانبدار وفود کو بخوشی خیر مقدم کریں گے۔
غازی مصطفی کمال اتاترک