ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سپریم کورٹ کا عمران خان کو ایک گھنٹے میں پیش کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو ایک گھنٹے میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب نے توہین عدالت کی ہے۔

سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔

سپریم کورٹ میں عمران خان کی گرفتاری کو گزشتہ روز چیلنج کیا گیا تھا جس میں پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی ہے۔ ہائی کورٹ کا عمران خان کی گرفتاری قانونی قرار دینے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے اور عمران خان کو عدالت کے سامنے پیش کرنےکا حکم دیا جائے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم میں شامل سینئر وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان ایک کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ آئے تھے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اسلام آبادہائیکورٹ کس کیس میں پیش ہوئے تھے؟

وکیل حامد خان نے کہا کہ عمران خان نیب کیس میں ضمانت کروانے کیلئے ہائیکورٹ آئے تھے۔ عمران خان بائیو میٹرک کروا رہے تھے کہ رینجرز نے ہلہ بول دیا۔ دروازہ اور کھڑکیاں توڑ کر عمران خان کو گرفتار کیاگیا۔ بائیو میٹرک کروانا عدالتی عمل کا حصہ ہے۔ عمران خان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور گرفتاری پر تشددہوئی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ریکارڈ کے مطابق جو مقدمہ مقرر تھا وہ شاید کوئی اور تھا۔عدالتی حکم کے مطابق درخواست ضمانت دائر ہوئی تھی لیکن مقرر نہیں ۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کیا بائیومیٹرک سے پہلے درخواست ہو جاتی ہے۔ حامد نے کہا کہ بائیومیٹرک کے بغیر درخواست دائر نہیں ہو سکتی۔ پہلی بات یہ ہے کہ عمران خان احاطہ عدالت میں داخل ہو چکے تھے۔ ایک مقدمہ میں عدالت بلایا تھا، دوسرا دائر ہو رہا تھا۔ کیا انصاف کے رسائی کے حق کو ختم کیا جاسکتا ہے؟ یہی سوال ہے کہ کسی کو انصاف کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟کیا مناسب ہوتا نیب رجسٹرار سے اجازت لیتا۔نیب نے قانون اپنے ہاتھ میں کیوں لیا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ نیب نے تو ہین عدالت کی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کا احترام ہوتا ہے۔ کورٹ کی پارکنگ سے نیب نے ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا۔ عدالت نے اس گرفتاری کو واپس کروایا تھا جس کے بعد نیب نے یقین دہانی کرائی تھی کہ احاطہ عدالت سےگرفتاری نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کتنے لوگوں نے عمران خان کو گرفتار کیا؟ وکیل عمران خان نے بتایا کہ 80 سے 90 افراد نے گرفتار کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 90 رینجرز اہلکار احاطہ عدالت میں داخل ہوئے تو عدالت کی کیا توقیر رہی؟ کسی بھی فرد کو احاطہ عدالت سے کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں عدالت میں توڑ پھوڑ کرنے پر وکلا کے خلاف کارروائی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی فرد نے عدالت کےسامنے سرنڈر کردیا تو اس کو گرفتار کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کوئی شخص بھی آئندہ انصاف کے لیے خود کو عدالت میں محفوظ تصور نہیں کرے گا، گرفتاری سے قبل رجسٹرار سے اجازت لینی چاہیے تھی۔

وکیل شعیب شاہین نے بتایا کہ عمران خان کی گرفتاری کے وقت عدالتی عملے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وارنٹ کی قانونی حیثیت نہیں اس کی تعمیل کا جائزہ لیں گے۔ عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کے عمل کو سبوتاژ نہیں کیا جاسکتا۔

وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان پر حملہ ہوا، ان سے سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی اٹارنی جنرل آف پاکستان کو طلب کرتے ہیں، وارنٹ کی تعمیل کیسے ہوئی سب سے اہم ہے۔ ہر کسی کو عدالت کے اندر تحفظ ملنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گرفتاری کے بعد جو ہوا اسے رکنا چاہیے تھا۔ غیر قانونی اقدام سے نظر نہیں چرائی جاسکتی۔ ایسا فیصلہ دینا چاہیے جن کا اطلاق سبھی پر ہو۔ انصاف تک رسائی ہر ملزم کا حق ہے۔ میانوالی کی ضلعی عدلیہ پر آج حملہ ہوا ہے۔ معلوم کریں میانوالی کی ضلعی عدلیہ پر یہ حملہ کس نے کیا؟ ضلعی عدلیہ پر حملے کا سن کر بہت تکلیف ہوئی۔

عمران خان کے وکیل حامد علی کا کہنا تھا کہ عمران خان کو گھر یا عدالت کے باہر سے گرفتار کیا جاتا تو یہاں نہ ہوتے۔ عمران خان کے ساتھ کوئی کارکن یا جتھہ عدالت میں نہیں تھا۔ قانون کےمطابق انکوائری سطح پر گرفتاری نہیں ہوسکتی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل سے سوال کیا کہ سپریم کورٹ سے کیا چاہتے ہیں؟ اس پر حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ عمران خان کی رہائی کا حکم دے۔

حامد خان کے مؤقف پر چیف جسٹس نے کہا کہ غیر قانونی کام سے نظر نہیں چرائی جاسکتی۔ آپ جو فیصلہ چاہتے ہیں اس کا اطلاق ہر شہری پر ہوگا۔ انصاف تک رسائی ہر شہری کا حق ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کسی شخص کو احاطہ عدالت سے گرفتار کیسے کیا جاسکتا ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ درخواست گزار نیب کے پاس ہے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو عمران خان کو ساڑھے 4 بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں