اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدہ ہو یا نہ ہو پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔
نیشنل سیکورٹی ڈویژن اور اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ‘‘اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ کے تحت پاکستان کے اقتصادی چیلنجز’’ کے عنوان سے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کر دی ہیں اور ان کے مطابق معاہدے کے لیے اقدامات کیے۔حکومت نے دسمبرتک تمام بیرونی ادائیگیوں کویقینی بنایا ہے۔
انہوں بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے پاکستان کے ممکنہ ڈیفالٹ سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاف لیول کے معاہدے کے لیے مزید وقت چاہتا ہے تو مزید وقت لے۔مئی اور جون میں 3.7 ارب ڈالر کی ادائیگیاں بروقت کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مئی اور جون کے دوران ادائیگیوں کا انتظام کر لیا جائے گا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ عالمی اداروں کو پاکستان سے متعلق ڈیفالٹ کی باتیں نہیں کرنی چاہییں۔ دوست ممالک کی جانب سے فنانسنگ کے وعدے کیے گئے ہیں جو جلد پورے ہوں گے۔ حکومت نے اپنے سیاسی اثاثے کی قیمت پرمشکل اقتصادی فیصلے کیے ہیں کیوں کہ ہمارے لیے سیاست سے زیادہ ریاست ضروری ہے۔ حکومت جامع اورپائیداراقتصادی بڑھوتری کے حصول کے لیے مختلف شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات متعارف کرارہی ہے۔اس کے علاوہ علاقائی رابطوں میں اضافہ، درآمدات کی حوصلہ شکنی اوربرآمدات میں اضافہ پربھی ہماری توجہ مرکوزہے۔
انہوں نے کہاکہ اقتصادی سلامتی قومی سلامتی کااہم جزوہے اوراقتصادی سلامتی کویقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے گئے ہیں۔ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا، حکومت نے دسمبرتک تمام بیرونی ادائیگیوں کویقینی بنایا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب ڈیل کے باعث خطے میں بہتری آئے گی۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ تہران اور ریاض میں دونوں ممالک کی جانب سے دوبارہ سفارتخانے کھولے جائیں گے۔ معاشی فروغ کے لیے خطے میں امن و امان، خوشحالی، سرمایہ کاری، پارٹنرشپ ضروری ہے۔ اکنامک سیکورٹی نیشنل سیکورٹی کا اہم جزو ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے غذائی ضروریات میں کمی کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو کرنٹ اکاوٴنٹ خسارے اور مالیاتی خسارہ کے باعث غیر مستحکم معیشت ملی۔ جب حکومت ملی تو اس سال تجارتی خسارہ 39 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا تھا۔زرمبادلہ ذخائر میں کمی اور کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ 17 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔