انقرہ:ترکیہ میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم پی کے کے سے مفرور ایک اور دہشت گرد نے قائل ہو کر گرفتاری پیش کر دی ہے۔
ترکیہ وزارت داخلہ کے زیرِ انتظام اور پولیس ڈائریکٹریٹ اور جینڈر میری کمانڈ آفس کی طرف سے جاری قائل پروگرام کے نتیجے میں پی کے کے دہشت گرد تنظیم سے فرار ہونے والے ایک اور دہشت گرد نے سکیورٹی فورسز کو گرفتاری پیش کر دی ہے۔
ہتھیار پھینکنے والا یہ دہشت گرد 2013 میں تنظیم میں شامل ہوا اور شام اور عراق میں تخریبی کاروائیاں کرتا رہا۔ اس دہشت گرد کی ماں بھی اپنے بیٹے کی واپسی کے لئے 2019 میں “دیار بکر کی مائیں” نامی احتجاجی دھرنے میں شامل ہوئی تھی۔
اس طرح 2023 میں صرف قائل ہو کر ہتھیار پھینکنے والے دہشت گردوں کی تعداد 39 ہو گئی ہے اور اپنی اولاد کی واپسی کے لئے دھرنا دینے والی ماوں میں سے 41 ویں ماں اپنے بیٹے کو دہشت گردی کی چنگل سے نکال چکی ہے۔
وزیر داخلہ سلیمان سوئے لو نے سرکاری ٹویٹر پیج سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “اولاد کے لئے دھرنے میں شامل ایک اور ماں اپنے بیٹے سے مِل گئی ہے۔
ضلع حقاری کے ایک اور کنبے کو اپنی اولاد واپس مِل گئی ہے۔ انشا اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور جمہوریہ ترکیہ کی سوویں سالگرہ تک ‘پی کے کے ‘کا اس زمین سے خاتمہ ہو جائے گا”۔