کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، پیپلز پارٹی انسانوں کی منڈی لگانے سے باز رہے، میئر کراچی جماعت اسلامی ہی کا ہوگا۔
ادارہ نورحق میں بلدیاتی انتخابات کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی آئینیم قانونی اور جمہوری طریقے سے پر امن انداز میں جدوجہد کرے گی۔ پیپلزپارٹی کو میئر کے انتخاب میں انہیں 24 نشستوں کی ضرورت پڑے گی۔ کراچی کا میئر جماعت اسلامی کا ہی منتخب ہوگا، اگر انہوں نے دھاندلی کرنے کی کوشش کی تو انہیں ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام بد قسمتی سے پیپلزپارٹی کو پسند نہیں کرتے۔ کراچی کے عوام انتقام لینے پر آئیں گے تو پیپلزپارٹی کی فسطائیت کو اصل جمہوری عمل سے شکست دیں گے۔ پیپلزپارٹی انسانوں کی منڈی لگانے سے باز رہے ، میئر جماعت اسلامی کا ہی ہوگا۔ اس وقت پورے ملک کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لا اینڈ آرڈر کو مینٹین کرے اور انتقامی کاروائیوں سے پرہیز کرے۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی جلاؤ گھیراؤ کی حمایت نہیں کرتی لیکن اس کو بنیاد پر بنا کر گرفتاریاں کرنا اور ریاستی جبر کا مظاہرہ کرنا کسی صورت قبول نہیں ہے۔ قانونی طریقے کے مطابق ہی قانون پر عمل درآمد کروایا جائے۔ نیب میں سیاسی انتقام کے لیے کارروائی کی گئی اس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔جلاؤ گھیراؤ کی آڑ میں سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرنا خواتین کو گرفتار کرنا قابل قبول نہیں۔
امیر جماعت نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کے لیے جماعت اسلامی سے جو ہوسکے گا وہ کرے گی۔پیپلزپارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اہل کراچی کا شکریہ ادا کریں گے کہ کراچی نے انہیں بڑی تعداد میں ووٹ دے کر کامیاب کیا۔ حلقہ بندیوں سے بلدیاتی انتخابات تک پیپلزپارٹی نے جو کراچی میں کیا ہے وہ دھاندلی سے زیادہ کچھ نہیں۔ پیپلزپارٹی نے کراچی میں ان یوسیز سے جیتی ان یوسیز میں ایوریج ووٹرز کی تعداد 15ہزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے حلقہ بندیاں کر کے جعل سازی لیکن ہم اس پر بھی پیپلزپارٹی کو شکست دی۔ جب فاشسٹ پیپلزپارٹی تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود بری طرح ہارنے لگی تو انہوں نے تشدد کے ذریعے پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کیا۔ پیپلزپارٹی نے پولیس افسران کو اپنے عملے کے طور پر استعمال کیا۔ بلاول بھٹو زرداری اس بات کاجشن منارہے ہیں کہ کراچی کی مردم شماری میں ایک بار پھر کراچی کے عوام پر شب خون مارا ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی ،حیدرآباد، سکھر میں 15تاریخ تک مردم شماری کی توسیع کیا ہے۔آج 13مئی ہے انہوں نے ابھی تک کراچی کی آبادی میں محض 8لاکھ افراد کا اندراج کیا ہے۔ ہائیراز بلنڈنگز کی تعداد 38ہزار ہیں ،ان میں سے کسی ایک گھر میں بھی خانہ شماری نہیں کی گئی۔ سندھ حکومت نے پولیو کے ورکرز سے خانہ شماری کا کام لیا جنہیں مردم شماری کا کوئی تجربہ ہی نہیں ہے۔ 2017کی مردم شماری کو کسی صورت بنیاد بنانا ہی غلط ہے ۔
انہوں نے کہا کہ 4 لاکھ بچے اور بچیاں میٹرک کا امتحان دے رہے ہیں اور پیپر سے پہلے پہ روز پرچے بانٹے جارہے ہیں۔ کے الیکٹرک کی شدید لوڈ شیڈنگ سے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے ، امتحان گاہ میں بجلی موجود نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کی پی ٹی آئی سے بات چیت آگے بڑھ رہی ہے ۔ پیپلزپارٹی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بھی کراچی میں اپنا میئر نہیں لاسکتی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اورنگی کی 6 یوسیز کو کالعدم قراردیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے ضمنی انتخاب میں مزید یوسیز پر پیپلزپارٹی نے قبضہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن بکاؤ مال ہے ، ہم ان پر بھروسا نہیں کرتے ، ہم مل کر کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑیں گے۔کراچی کے عوام نے اپنے آنکھوں سے دیکھا ہےکہ کس طرح پیپلزپارٹی نے انور چوہان اور آراو شجاعت کو استعمال کرتے ہوئے نتائج تبدیل کروائے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے 45 ووٹ لیے جسے 419 ووٹ میں تبدیل کیا گیا۔ یوسی 4، یوسی 13،یوسی 2کورنگی، جیسی تمام نشستوں پر قبضہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ پیپلزپارٹی نے میئر کے انتخاب کے لیے سندھ اسمبلی میں ترمیم پاس کیا۔ ہم نے انتخابات سے قبل کہا تھا کہ میئر کا انتخاب ڈائریکٹ مقرر کیا جائے۔ سندھ اسمبلی میں میئر کے انتخاب میں ترمیمی بل پر ہمیں اختلاف نہیں تھا۔ الیکشن کے مرحلہ مکمل ہونے والا ہے اس موقع پر ترمیمی بل پیش کرنا کسی صورت قبول نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ہم میئر کے انتخاب کے لیے منظور کیے گئے ترمیمی بل کو چیلنج کریں گے۔ پیپلزپارٹی 15 سال سے سندھ پر بر سراقتدار ہے لیکن انہوں نے آج تک کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ 2005 سے آج تک کے فور منصوبہ مکمل نہیں کیا۔ کراچی میں ادارے نہیں بلکہ ایک سسٹم کام کررہا ہے۔ کراچی میں کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں سے شہری اپنا کام باآسانی کرواسکے۔