اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے صدر مملکت عارف علوی ،وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل حافظ عاصم منیر اور وزیر خارجہ سے مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں 22 مئی کو جی 20 اجلاس رکوانے کے لیے چین اور اسلامی ممالک کی قیادت سے رابطوں کا مطالبہ کر دیا۔
منصورہ میں حریت رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی کی طرف سے بھی متعلقہ ممالک کے سفراء سے رابطے شروع کر دیئے گئے ہیں اور مزید بھی یہ کوششیں جاری رہیں گی۔جی20 اجلاس کے موقع پر اسلام آباد میں حریت رہنماؤں کے ہمراہ سخت احتجاج کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو یادداشت پیش کی جائیگی۔
سراج الحق نے کہا کہ 22 مئی کو سرینگر میں جی20 اجلاس کے انعقاد کے اعلان نے نہ صرف مقبوضہ کشمیربلکہ دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں کو تشویش اور بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے تنازعہ کشمیر کی وجہ سے خطہ کے امن کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ چار ایٹمی ممالک کا تعلق اس خطہ سے ہے پانچ اگست کے بھارتی یکطرفہ اقدام کو پاکستان ،کشمیر بلکہ دنیا بھر میں مسترد کر دیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔دوران حریت کئی حریت رہنماؤں انتقال کر گئے۔سرینگر میں کوئی عالمی اجلاس بین الاقوامی قوانین سے انحراف ہے کیونکہ یہ متنازعہ علاقہ ہے۔جی20 اجلاس کا انعقاد پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔ہم بھارتی ہٹ دھرمی کو موثر انداز میں اجاگر نہیں کر سکے۔
انہوں نے کہاکہ اجلاس کے خلاف لابنگ کرنے میں ناکام رہے جبکہ ضروری تھا کہ پاکستان کی جانب سے چین دوست ممالک بالخصوص اسلامی ممالک سے رابطہ کر کے بائیکاٹ کی درخواست کی جاتی۔اس وقت مقبوضہ کشمیر حقیقی جیل خانہ ہے اور جی20 اجلاس جیل میں ہوگا۔22 مئی کو اسلام آباد میں سخت احتجاج ہوگا۔اقوام متحدہ کو یادداشت پیش کی جائے گی ۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے اپنی سطح پر رابطے شروع کر دیئے ہیں، بہت سارے ایسے ممالک موجود ہیں جو پاکستان کے قائل کرنے پر اجلاس میں جانے سے انکار کر سکتے ہیں اس طرح یہ اجلاس غیر موثر ہو جائیگا۔وزیر خارجہ نے ہماری تجویز پر دورہ بھارت کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ اور سابقہ حکومتی جماعتوں میں کشمیر کی آزادی ،آئی ایم ایف،سودی نظام ،عافیہ صدیقی کی رہائی،مہنگائی،بدامنی،بیروزگاری کے مسئلے پر جھگڑا نہیں ہے بلکہ مفادات کا تنازعہ ہے،ذاتیات کارفرما ہیں۔
انہوں نے پاکستان میں حریت کشمیریوں کی ٹارگٹ کلنگ پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ایسا تو برطانیہ ،امریکہ ،یورپی ممالک بھارت میں بھی حریت رہنماؤں کیساتھ نہیں ہوتا۔جو سلوک اپنی محفوظ بستیوں میں ہو رہا ہے۔اعلیٰ قیادت کو ان کا نوٹس لینا چاہیے۔مودی کیخلاف بین الاقوامی مظاہرے کرنے پر کشمیریوں کو اس طرح نشانہ نہیں بنایا جاتا۔