ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کیا آپ جانتے ہیں۔38

کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کے اہم ترین ماہرینِ سمیریات میں سے ایک  کا تعلق ترکیہ سے ہے؟

 

معّزز علمیہ چیع کی پیدائش 1914 میں ہوئی ۔ وہ سمیری یا سومر تہذیب کی ماہر تھیں اور ان کے متعدد تحقیقی کاموں کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہے۔

 

معّزز علمیہ چیع، اناطولیہ کی شاندار تہذیبی تاریخ کو منظر عام پر لانے کے لئے انقرہ یونیورسٹی کی زبان اور تاریخ جغرافیہ فیکلٹی میں قائم کئے  گئے شعبہ سومرولوجی کے اوّلین فارغ التحصیل طلبہ و طالبات میں سے تھیں۔ جب معّزز نے ڈگری حاصل کر لی تو ان کے جرمن استاد نے انہیں یونیورسٹی میں ہی بطور استاد کام کرنے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر کے استنبول آرکیالوجک عجائب گھرمیں کام کرنا شروع کر دیا۔ یہ فیصلہ معّزز کے زندگی میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔1973 میں اپنی ریٹائر منٹ تک وہ استنبول آرکیالوجی  عجائب گھر کے خطِ میخی  کے دستاویز والے آرکائیو میں کام کرتی رہیں۔اس آرکائیو میں موجود تین مختلف زبانوں کے اور 70 ہزار کے قریب کتبوں کو ترتیب دینے کے لئے انہوں نے سالوں تک محنت کی۔ انہوں نے سمیری، اقاد اور حطیط زبانوں میں لکھے ہوئے ہزاروں کتبوں کو صاف کیا ان کی درجہ بندی کی اور ان پر نمبر لگا کر خطِ میخی کے تحریری دستاویزات کا آرکائیو ترتیب دیا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں 8 کتابیں تصنیف کیں  اور کثیر تعداد میں مقالے رقم کئے۔

 

معّزز علمیہ چیع کو بین الاقوامی سطح پر بے شمار ایوارڈ  دیئے گئے۔ انہوں نے اپنی تحقیق سے صرف ترکیہ ہی نہیں عالمی تاریخ میں اپنا نام زرّیں حروف سے رقم کر دیا۔ ریٹائر منٹ کے بعد انہوں نے اپنا کام جاری رکھا اورقارئین کے ایک وسیع حلقے کو مخاطب کرنے والی  متعدد  کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے سمیری اور حطیط تاریخ کو اور ان کی تہذیبوں اور ثقافتوں   کو   سہل اور ہر ایک کے لئے قابل تفہیم اسلوب کے ساتھ بیان کیا ہے۔

 

معّزز علمیہ چیغ ایک محقق ہی نہیں بلکہ دنیا کے طویل العمر انسانوں میں سے بھی ایک ہیں۔ انہوں نے 109 سال کی عمر میں وفات پائی۔ یوں کہیں کہ وہ، قلبی ذہنی اور روحانی اعتبار سے ہمیشہ نوجوان رہنے میں کامیاب، ترکیہ کے عصری روشن خیالوں میں سے ایک ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں