ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹیکس پالیسیاں تاجروں کو غیر دستاویزی معیشت کی طرف دھکیل رہی ہیں ، عاطف اکرم شیخ 

اسلام آ باد: ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ ٹیکس پالیسیاں کاروباری اداروں کو غیر دستاویزی معیشت کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

پاکستان میں ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب 10 فیصد سے کم ہے جو اقتصادی ترقی کے لیے ناکافی ہے مگر کبھی بھی ٹیکس نیٹ بڑھانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے۔

ٹیکس آمدنی بڑھانے کے لئے ہمیشہ درامدات اور بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کیا گیا ہے جو کبھی بھی کامیاب ثابت نہیں ہوا ہے۔ عاطف اکرام شیخ جواسلام آباد چیمبر کے صدر اورپی وی ایم اے کے چئیرمین بھی رہے ہیں نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ ٹیکس گزاروں پر بوجھ بڑھانے سے تاجروں کو غیر دستاویزی معیشت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جس سے فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہو گا۔

نان فائلرز پر ٹیکس بڑھانے کا تجربہ بھی ناکام ہو چکا ہے مگر آمدہ بجٹ میں اسے دہرایا جا رہا ہے جو افسوسناک ہے۔ٹیکس دہندگان پر ٹیکس بڑھانے سے اسکی چوری بڑھ جائے گی اور حکومت کی آمدنی سکڑ جائے گی۔پچھلے سال سپر ٹیکس لگایا گیا تھا جو آئندہ سال بھی جاری رہ سکتا ہے۔

دستاویزی معیشت کو یقینی بنانے کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس کا نظام مطلوبہ نتایج نہیں دے رہا ہے جس کی وجہ عزم کی کمی ہے۔ پاکستان میں تمباکو کی 52 کمپنیاں ہیں جبکہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم صرف دو بڑی ملٹی نیشنلز میں لاگو کیا گیا ہے جس سے انکا کاروبار متاچر ہوا ہے جبکہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کیوارے نیارے ہو گئے ہیں۔

حکومت نے پھلوں کے جوس پر 10 فیصدفیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی عائد کی ہے جس کے نتیجے میں رسمی جوس کی مارکیٹ میں 45 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کی آمدنی بڑھ گئی ہے جن کی مصنوعات غیر معیاری اور صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں