امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے اور جماعت اسلامی کا مینڈیٹ تسلیم کرتے ہوئے کراچی کی تعمیر و رقی میں ہمارا ساتھ دے۔
پیپلز پارٹی وسندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کے واضح مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے ، نو منتخب بلدیاتی نمائندوں کوہراساں و گرفتار کرنے اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین اور صوبائی و مقامی قیادت نے مئیر کے انتخاب میں جماعت اسلامی کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کراچی کے صدر اکرم چیمہ نے گرفتاری کے بعد بھی جماعت اسلامی کی غیر مشروط حمایت کے اعلان کا اعادہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی نے واضح اور دو ٹوک فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کا کوئی بھی چیئرمین مخالف پارٹی کو ووٹ دے گا تو وہ ڈس کوالیفائی ہوگا اور سیٹ بھی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے پاس کوئی آپشن نہیں سوائے اس کے کہ وہ جماعت اسلامی کے مینڈیٹ کو تسلیم کرے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی ماضی کی روش کو ترک کرکے کراچی پر قبضے کے خواب دیکھنا چھوڑدے۔ جماعت اسلامی کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے ساتھ ہے۔ مینڈیٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو مذمت نہیں مزاحمت کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے وزرا کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے نمبر تو پورے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لوگ کیسے ووٹ ڈالنے آتے ہیں۔
امیر جماعت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے پیپلز پارٹی کے اس عمل کا نوٹس لے۔شہر میں تھوڑی سی بارش کے بعد سڑکوں کی مرمت کے لیے اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں اور اگلی بارش میں ساری سڑکیں بہہ جاتی ہیں۔ جماعت اسلامی پر نفرت کی سیاست کا الزام لگانے والے اس وقت کہاں تھے جب شہر میں سندھی مہاجر فسادات ہوتے تھے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی واحد پارٹی تھی جس نے سندھی مہاجر فسادات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لسانیت وعصبیت کی سیاست پیپلز پارٹی کرتی ہے اور سندھی زبان بولنے والوں کو بے وقوف بناتی ہے۔ وڈیرے اور جاگیردار جواب دیں کہ ام رباب چانڈیو سمیت دیگر لوگوں کو آج تک انصاف کیوں نہیں مل سکا۔ ام رباب چانڈیو کے والد اور چچا کو ان وڈیروں اور جاگیرداروں نے قتل کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ سندھی مہاجر کا نہیں، بلکہ مسئلہ جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی نظام کا ہے۔ پیپلز پارٹی بتائے کہ کب تک سندھیوں کے نام پر سیاست کرتی رہے گی۔ جب ہم لوٹ مار اور وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف بات کرتے ہیں تو یہ لسانیت وعصبیت کی بات کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی بتائے کہ اندرون سندھ میں 30 فیصد لوگ بلامقابلہ کیسے جیت گئے؟ پیپلز پارٹی بتائے کہ 92 ارب روپے لاڑکانہ میں کہاں خرچ کیے گئے۔
حافظ نعیم نے سوال کیا کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بتائیں کہ اربوں کا ترقیاتی بجٹ کہاں خرچ کیا گیا۔ تعلیم اور صحت کی مد میں اربوں روپے کے بجٹ کہاں خرچ کیے گئے۔ پیپلز پارٹی دعوے کرتی ہے کہ انہوں نے سندھ میں خوب ترقی کی ہے۔ پیپلز پارٹی بتائے کہ وہ 15 سال میں ایک آئی اسپتال تک نہیں بناسکے۔ آصف علی زرداری صاحب آنکھوں کا علاج کروانے کے لیے دبئی کیوں گئے۔
امیر جماعت نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی پر قبضے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ آئینی و جمہوری طریقے سے مئیر کا انتخاب کیا جائے۔جماعت اسلامی نے عدالت میں پٹیشن دائر کردی ہے کہ جو ووٹ پارٹی کی مرضی کے خلاف ڈالا جائے گا وہ کاؤنٹ ہی نہیں کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے پاس سوائے جماعت اسلامی کے مینڈیٹ تسلیم کرنے کے کوئی آپشن نہیں ہے۔