ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سابق صدر ٹرمپ آج میامی کی عدالت میں فردِ جرم کا سامنا کریں گے

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیو جرسی سے فلوریڈا پہنچ گئے ہیں جہاں آج وہ ملکی سیکیورٹی سے متعلق خفیہ دستاویزات رکھنے کے الزام میں فردِ جرم کا سامنا کریں گے۔

ٹرمپ پر الزام ہے کہ 2021 میں وائٹ ہاؤس چھوڑتے وقت وہ ملکی سیکیورٹی سے متعلق انتہائی خفیہ دستاویزات ارادتأ اور غیر قانونی طور پر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

ٹرمپ آج ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کی ایک وفاقی عدالت کے سامنے پیش ہوں گے جہاں ان پر فردِ جرم کے لیے مقامی وقت کے مطابق تین بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹرمپ ڈسٹرکٹ جج آئلین کینن کی عدالت میں پیش ہوں گے جنہیں سابق صدر نے2020 میں وفاقی جج نامزد کیا تھا۔

ٹرمپ کے خلاف فردِ جرم کی کارروائی سے قبل وفاقی حکام نے عدالت کی عمارت کے ارد گرد سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔ میامی کے عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کے حامی اور مخالف مظاہرین کے تشدد کو روکنے کے لیے تیار ہیں۔

میامی کے میئر فرانسس سواریز نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "ہم اپنے شہر میں، واضح طور پر آئین پر یقین رکھتے ہیں اوریہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ لوگوں کو اپنے اظہار کا حق ہونا چاہیے۔لیکن ہم امن و امان پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ اور ہم یہ جانتے ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ آنے والا کل پرامن ہوگا۔”

پانچ دن قبل میامی میں ایک وفاقی گرینڈ جیوری نے ٹرمپ پر 37 کرمنل الزامات میں فرد جرم عائد کی تھی۔جس میں ان پر جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ قومی دفاعی دستاویزات کو "جان بوجھ کر اپنے پاس رکھنے” کا الزام بھی شامل ہے۔

ٹرمپ کے ایک معاون والٹ نوٹا پر بھی سرکاری دستاویزات بازیافت کی حکومتی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

ٹرمپ پہلے سابق صدر ہیں جنہیں وفاقی فرد جرم کا سامنا کرنا پڑا۔ دو ماہ میں یہ دوسرا موقع ہے کہ ان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اس سے قبل سابق صدر کو نیویارک میں 2016 کی صدارتی مہم کے دوران ایک پورن فلم اسٹار کو رقم کی ادائیگی کے سلسلے میں ریاستی فوجداری الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

منگل کی سماعت میں، ایک جج ٹرمپ کو ان کے حقوق سے آگاہ کریں گے اور ان کے خلاف الزامات کو پڑھیں گے۔

متوقع طور پر ٹرمپ اپنے قصوروار نہ ہونے کی درخواست داخل کریں گے۔







No media source currently available

اپنے بے گناہ ہونے کے دعوے کے باوجود ٹرمپ نے اختتامِ ہفتہ تسلیم کیا کہ خفیہ دستاویزات کے کیس میں ان کے لیے خطرات ہیں اور اگر وہ مجرم پائے گئے تو انہیں کئی سال جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔

سابق صدر پر اس سے پہلے عائد کی جانے والی فرد جرم

اس سے قبل چار اپریل کو ٹرمپ نے مین ہٹن نیویارک کی ایک ریاستی عدالت میں خود پر عائد کیے جانے والے ان 34 الزامات کی صحت سے انکار کیا تھا جن کا تعلق 2016 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی سے قبل ایک پورن اداکارہ اسٹورمی ڈینیئلز کو اس کے دعوے پر خاموش رہنے کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کی رقم کی ادائیگی سے ہے۔


یہ کسی موجودہ یا سابق امریکی رہنما کے خلاف دائر کی جانے والی پہلی فرد جرم تھی۔

ٹرمپ طویل عرصے سے اداکارہ کے اس دعوے کی ترید کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے اس کے ساتھ ایک رات بسر کی تھی۔ لیکن ٹرمپ کے اس وقت کے وکیل اور سیاسی فکسر مائیکل کوہن نے اسٹورمی کو رقم کی ادائیگی کی تھی اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے کاروباری ریکارڈ کو تبدیل کر کے کوہین کو اس رقم کی ادائیگی قانونی اخراجات کے طور پر ظاہر کی گئی تھی۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگی سات سال قبل ان کی صدارتی مہم سے متعلق تھی۔

ٹرمپ کے حامیوں میں سے ایک سینیٹر لنڈسی گراہم نے ‘اے بی سی’ نیوز نیٹ ورک کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ ٹرمپ کے خلاف کچھ الزامات ملک میں جاسوسی ایکٹ کے تحت ہیں لیکن ” انہوں نے جاسوسی نہیں کی۔ وہ جاسوس نہیں ہیں۔”

ڈیمو کریٹک سینیٹر کرس کُونز وں نے کہا، ” کہ صدر ٹرمپ کو اس سب کے لیے کسی اور کو نہیں بلکہ خود کو موردِ الزام ٹھہرانا چاہیے۔”

(مسعود فاریور، وی او اے نیوز)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں