اسلام آباد: جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی جیل سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کردار ادا نہ کرنے پر دس لاکھ عوام کو اسلام آبادکی کال دینے کا اعلان کر دیا۔
مشتاق احمد خان نے کہاکہ کسی حکومت نے فوزیہ صدیقی سے اپنی بہن سے ملاقات کے لیے کوئی کوشش نہیں کی ، عافیہ کے لیے رہائی کی کوشش نہ کر کے ہم سب گناہگار ہو رہے ہیں وہ دنیا کی انتہائی خطرناک جیل میں قید ہیں ۔ چوبیس گھنٹہ چھ مسلح فوجی ان کی نگرانی کر رہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ عافیہ صدیقی نے فوج ، پارلیمنٹ ، سیاسی جماعتوں ، سول سوسائٹی سمیت سب سے اس جہنم سے نکالنے کی اپیل کا پیغام دیا ہے جبکہ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے میں ملوث جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو ہٹانے کے لیے تمام چھ حکومتیں ناکام رہیں ۔ ایک بار پھر کمیشن برائے لا پتہ افراد کی تشکیل نو کا مطالبہ کر دیا ۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ انہیں اور لاپتہ افراد کے لواحقین کو جو دھمکیاں ملتی ہیں اس کا وہ صرف ایک فیصد بیان کرتے ہیں ننانوے فیصد بیان نہیں کر سکتے ۔ ان کے اس ریمارکس پر آمنہ مسعود ججنوعہ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور کافی دیر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری رہے ۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے جب یہ کہا کہ امت مسلمہ میں اگر کوہ ہمالیہ جیسے پہاڑ کی طرح ثابت قدم کوئی دو خواتین ہیں تو وہ عافیہ صدیقی اور آمنہ مسعود جنجوعہ ہیں اس پر چیئرپرسن ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہت آ گئی ۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے تین آپشنز موجود ہیں زہنی صحت کی بنیاد پر بھی امریکی قانون کے تحت ان کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے ۔