سویڈن کی نیٹو میں رکنیت سے متعلق امور کے مذکرات کار آسکر اسٹین اسٹروم نے کہا ہے کہ ان کا ملک پی کےکے کی آماج گاہ نہیں ہے ،سویڈن عام جرائم ور دہشتگردی سے متعلقہ جرائم کے درمیان امتیاز رکھتا ہے۔
انقرہ میں ترکیہ،فن لینڈ،سویڈن اور نیٹو کے درمیان مشترکہ ڈھانچے پر مبنی چوتھے اجلاس کے لیے موجود اسٹین اسٹروم نے ایک پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب دیئے۔
اسٹین اسٹروم نے کہا سویڈن، انسداد دہشتگردی کے تحت یکم جون سے نافذ العمل نئے تعزیراتی قانون کی رو سے دہشتگرد تنظیموں کو غیر قانونی قرار دیتا ہے،ہمارا ملک پی کےکے کی آماج گاہ نہیں ہے ، ہم اس پیش رفت کو مزید موثر بنانے کے لیے ترکیہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں،اگر سویڈن کی عارضی یا مستقل رہائش کے خواہاں شخص کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے پایا گیا تو اس کی درخواست مسترد کر دی جائے گی ۔
اسٹین اسٹروم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دہشتگردی پر ترکیہ کو مسائل کا سامنا ہے جنہیں ہماری حکومت بھی سنجیدہ لے رہی ہے، ہمارا مالیاتی اوربینک کاری نظام کافی مستعد اور محفوظ ہونے کے باوجود منظم جرائم پیشہ تنظیموں اور دہشتگردوں کے نقد رقوم کے استعمال کو روکنے میں مشکلات سے دوچار ہے جس کے بارے میں اجلاس کے دوران غور کیا گیا ہے۔
اسٹین اسٹروم نے مزید کہا کہ ہم نیٹو میں رکنیت کے قریب ہیں۔