بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی کانگریس اور سینیٹ کے اجتماعی ایوان سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کو اصلاحات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ یہ دور جنگ کا نہیں بلکہ مکالمت اور سفارت کاری کا ہے۔
نریندر مودی نے کہا کہ اب سے کچھ سال قبل جب انہوں نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا تھا تو بھارت دنیا کی دسویں بڑی معیشت تھی اور آج وہ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے۔
دفاع کے حوالے سے نریندر مودی نے کہا کہ اس صدی کے آغاز پر امریکہ اور بھارت میں اس شعبے میں تعاون بہت ہی کم تھا لیکن آج امریکہ بھارت کا سب سے بڑا دفاعی شراکت دار ہے۔
انہوں نے بھارت اور امریکہ کے درمیاں تعاون کے امکانات کو لامحدود قرار دیا اور کہا کہ محنت کش اور ہونہار بھارتی امریکیوں نے بھارت اور امریکہ سے محبت کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ ترسیل مال کو آزادانہ انداز میں چلانے میں تعاون کریں گے جبکہ دونوں ممالک نے انتہائی اہم شعبوں میں ٹیکنالوجیکل تعاون کا عزم بھی کیا ہے۔
کانگریس میں مسلمانوں سمیت دیگر ڈیموکریٹس ارکان نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث مودی کے خطاب کا بائیکاٹ بھی کیا۔
امریکہ میں آباد مسلم برادری کے ارکان نے بھی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک رکھنے کی بنا پر مودی کے دورے پر تنقید کی تھی ۔