ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی پیداوار میں82 ارب ڈالر کی ریکارڈ سرمایہ کاری

سال 2022 میں جوہری اسلحہ کے لیے سرمایہ کاری  82 ارب ڈالر سے متجاوز ہو گئی۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کو 55 سال مکمل ہونے پر جوہری ہتھیاروں پر اختلافات جاری ہیں۔ گزشتہ سال اس شعبے میں کی گئی سرمایہ کاری 82 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک میں شامل ہیں۔

تحقیقی کمپنی Statista کے اعداد و شمار کے مطابق ان ممالک کے پاس 12,500 سے زائد جوہری وار ہیڈز ہیں جب کہ روس کے پاس 5,889 جوہری وار ہیڈز ہیں۔ روس کے بعد امریکہ 5,244 اور چین 410 ایٹمی وار ہیڈز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اندازوں کے مطابق فرانس کے پاس 290، برطانیہ کے پاس 225، پاکستان کے پاس 170، بھارت کے پاس 164، اسرائیل کے پاس 90 اور شمالی کوریا کے پاس 20 ایٹمی وار ہیڈز ہیں۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) 2023 کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر جوہری وار ہیڈز کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، لیکن اس کی بنیادی وجہ امریکہ اور روس کی جانب سے غیر استعمال شدہ وار ہیڈز کو ضائع کرنا ہے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر فعال وار ہیڈز کی تعداد میں کمی تاخیر کا شکار دکھائی دے رہی ہے اور ان کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔

جوہری ہتھیاروں میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والے امریکہ کے بعد بالترتیب چین، روس، انگلینڈ، فرانس، بھارت، اسرائیل، پاکستان اور شمالی کوریا کا نمبر آتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں