ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہ کرنا پیپلزپارٹی کا مائنڈ سیٹ ہے، حافظ نعیم

کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 19جون کوسٹی اور ٹاؤن کے منتخب نمائندوں سے حلف لیا گیا لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ابھی تک ٹاؤنز ویوسیز چیئرمینوں کو چارج منتقل نہیں کیاگیا۔

حافظ نعیم الرحمن  نے کہا کہ  عید الاضحی کے موقع پر صفائی اور ستھرائی کے نظام میں رکاوٹیں ڈالی گئیں، سندھ حکومت نے غیر آئینی و غیر قانونی طریقے سے سندھ سولڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ قائم کیا ہوا ہے۔ سلیکٹڈ مئیر جواب دیں کہ پیپلز پارٹی وفاق اور صوبے میں بھی شامل ہے پھر کیوں چارج منتقل نہیں کیے جارہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب نے جماعت اسلامی کے ٹاؤنز ویوسیز کے چیئرمینوں کے علاوہ اپنی پارٹی کے منتخب نمائندوں کو بھی چارج منتقل نہیں کیا ،اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہ کرنا پیپلزپارٹی کا مائنڈ سیٹ ہے ،عبوری مدت کے نام پر اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے جارہے۔

انہوں نے کہاکہ   پیپلزپارٹی کی وفاق،صوبہ اور کراچی میں بھی حکومت ہے ، سلیکٹڈ میئر مرتضیٰ وہاب آئین کے آرٹیکل 140-Aکے مطابق تمام بلدیاتی اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے اپنی پارٹی سے بات کریں ،آئندہ چند روز میں ٹاؤنز اور یوسی چیئرمینوں کے اختیارات کے حوالے سے چارٹر بنائیں گے۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ  اگر بلدیاتی اختیارات منتقل نہیں کیے گئے تو بھرپور مزاحمت کریں گے، سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کے واقعے کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور احتجاج بھی کریں گے۔ بین الاقوامی سطح پر ایسی قانون سازی کی جائے کہ کوئی پیغمبر اور قرآن مجید کی بے حرمتی نہ کرسکے۔

حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ آئین کے مطابق تمام بلدیاتی اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونے چاہیے۔ پیپلز پارٹی 2001 کے ڈکٹیٹر کے بلدیاتی قانون کو نہیں مانتی اور کہتی ہے کہ وہ آمر کا قانون تھا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ  شہری ڈاکوؤں کے ساتھ ساتھ پولیس سے بھی خوف زدہ ہیں۔کراچی میں پولیس کا ایسا بد ترین نظام قائم ہے جومسلسل 15 سال سے پیپلز پارٹی کی سرپرستی میں چل رہا ہے۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بتائیں کہ کیسے شہر میں منشیات کے اڈے قائم ہیں۔ کسی بھی علاقے میں 4 دن سے زیادہ منشیات کا اڈہ چل نہیں سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس کی سرپرستی میں منشیات کے اڈے چل رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو ہیں وہ بتائیں کہ اندرون سندھ کے عوام کیوں خوف زدہ ہیں۔ اندرون سندھ کے رہائشیوں کے بچے اغواء ہوئے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ  ایک ہندو شہری نے یہاں تک کہا کہ میرے بیٹے کو بازیاب کروادیں میں واپس انڈیا چلا جاؤں گا۔یہ پیپلز پارٹی کا وڈیرہ شاہی مائنڈ سیٹ ہے جس سے کوئی بھی شہری محفوظ نہیں ہے۔ بلاول پروجیکٹ بنانے والوں نے بری طرح پروجیکٹ کو بدنام کروادیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں