کیتھولک فرقے کے روحانی پیشوا اور ویٹیکن سٹی کے سربراہ پوپ فرانسس نے کہا کہ سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں ایک مسجد کے سامنے قرآن پاک کو جلانے کے واقعے پر اپنے غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔
پوپ فرانسس، جنہوں نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے اخبار الاتحاد کو انٹرویو دیا، ایک سوال پر سویڈن میں قرآن کے خلاف اشتعال انگیزی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسی حرکت پر انہیں شدید غصہ ہے اور مجھے ایسی حرکتوں سے نفرت ہے۔ پوپ نے کہا کہ ہر وہ کتاب جو مقدس سمجھی جاتی ہے اس کے ماننے والوں کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔
پوپ فرانسس نے کہا کہ "اظہار رائے کی آزادی کو کبھی بھی دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی اجازت دینا ناقابل قبول ہے، یہ ایک قابل مذمت عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مشن مذہبی جذبات کو تعاون، بھائی چارے اور ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرنا ہے، پوپ نے کہا، "آج ہمیں امن قائم کرنے والوں کی ضرورت ہے، ہتھیار بنانے والوں کی نہیں۔ ہمیں پرامن لوگوں کی ضرورت ہے، تنازعات کو بھڑکانے والوں کی نہیں۔ ہمیں آگ بجھانے والوں کی ضرورت ہے، آتش زنی کرنے والوں کی نہیں۔ یا تو ہم مل کر مستقبل بنائیں یا کوئی مستقبل نہیں۔
پوپ نے کہا کہ بین المذاہب تعاون کا مستقبل باہمی تعاون، دوسروں کے احترام اور سچائی پر مبنی ہے۔
عراقی نژاد سلوان مومیکا نے 28 جون کو سٹاک ہوم کی مسجد کے سامنے پولیس کی حفاظت میں قرآن مجید کو نذر آتش کیا۔