ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان ڈائری

برسات کا موسم کس کو اچھا نہیں لگتا گرمی میں جب ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں اور بارش ایک دم انسان کا موڈ خوش گوار کردیتی ہے۔ جولائی سے اگست پاکستان میں مون سون کا مہینہ ہوتا ہے۔ لوگ اس موسم کو ساون بھی کہتے ہیں اس دوران پکوڑے سموسے چائے بہت شوق سے نوش کئے جاتے ہیں۔ انسان اس موسم میں بہت فرحت محسوس کرتا ہے۔ ان دو ماہ خوب بارشیں ہوتی ہیں۔ مون سون کیا ہے خلج بنگال اور بحیرہ عرب سے ہوائیں اٹھتی ہیں اور جنوبی ایشیا میں بارشوں کا سبب بنتی ہیں۔ گرمی سے بخارات بنتے ہیں یہ بخارات بادلوں کی صورت میں پہاڑی سلسلوں سے ٹکرا کر بارش برستے ہیں ۔ اس بار مون سون جولائی سے شروع ہوگیا اور این ڈی ایم اے کے مطابق مختلف علاقوں میں آندھی اور طوفان کیساتھ شدید بارشیں متوقع ہیں۔ جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائینڈگ کا خطرہ ہے۔ کسانوں سیاحوں اور مسافروں کو خاص طور پر موسم کی صورتحال پر نظر رکھنی چاہیے۔ بارش اللہ کی رحمت ہے اگر یہ موسلا دھار ہونا شروع ہوجائے تو یہ باعث زحمت بن جاتی ہے۔ قوم نوح پر بارش عذاب بن کر نازل ہوئی اس ہی طرح یمن میں قوم سبا اور قوم عاد تیزہواوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوئے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی بجلی کی کڑک سنتے تو یہ دعا کرتے اے اللہ ہمیں اپنے غصہ سے قتل مت فرمائے، اپنے عذاب سے ہلاک مت کیئجے اور اس سے پہلے پہلے ہمیں عافیت عطا فرمائیں۔ (جامع ترمذی )

حضرت عائشہ رضی تعالی عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرماتے اے اللہ نفع بخشنے والی بارش برسا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ مجھے یہ ڈرلگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو کیونکہ ایک قوم ( قوم عاد) ہوا کے عذاب سے دو چارہوچکی ہے، سنن ابی داود)۔ جب بھی طوفانی بارش ہو یہ پڑھیں اے اللہ ہمارے اردگرد بارش برسا اور (اب) ہم پر نہ (برسا) اے اللہ ٹیلوں ، پہاڑیوں، وادیوں کے درمیان اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر (بارش برسا) صیح بخاری ۸۴۶۔

اب مون سون کا آغاز ہوگیا ہے ہم سب کو بھی یہ دعا کرنی چاہیے کہ یہ بارشیں خیر کی ہوں۔ لاہور میں سارا دن موسلا دھار بارش ہوتی رہی اور ۷ افراد جان کی بازی ہارگئے۔ ان بارشوں نے تیس سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا اور ۲۹۱ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئ۔ ہم سب کو بارش میں خصوصی احتیاط کرنا چاہیے۔ ٹی وی سوشل میڈیا یا محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ سے موسم کے حوالے سے آگاہ رہیں۔اگر آپ نشیبی علاقے میں رہائش پذیر ہیں اور بارش کی آمد ہے توقیمتی سامان کو بالائی منزل پر شفٹ کرلیں۔اگر ہوسکے تو ممکنہ سیلاب یا طغیانی سے بچنے کے لئے کسی رشتہ دار کے گھر چلے جائیں ۔ پاکستان میں  بہت سے لوگ دوران بارش چھت گرنے کی وجہ مارے جاتے ہیں اس لئےچھت ڈالتے وقت یہ خیال رکھیں کہ وہ مضبوط اور پائیدار ہو۔

بارشوں سے پہلے گھر میں چھت یا دیواروں کی لیکج کو چیک کروالیں۔گھر میں موجود ڈرینج سسٹم اور گٹر بھی چیک کروائیں تاکہ بارش میں نکاسی آب میں آسانی رہے گی۔ورنہ گھر میں پانی داخل ہوسکتا ہے ۔اگر بارش اور سیلاب کی پیشنگوئی کی گئ ہو تواشیاء خوردونوش اور پینے کے صاف پانی کا بھی ذخیرہ کرلیں۔گھر میں ٹارچ سیل اور موم بتیاں بھی لازمی ہونی چاہیں۔ بارش کے دوران لایٹ جانا معمول کی بات ہے اس لئے روشنی کا متبادل استعمال ہونا چاہیے۔

بارش میں بہت سے حادثات بجلی کی وجہ سے ہوتے ہیں کسی بھی گیلی تار یا ٹوٹی ہوئی تار کو ہاتھ لگانے سے پرہیز کریں دوران بارش کسی بھی بجلی کی چیز کو ننگے پاوں یا گیلے ہاتھ نا لگالیں۔غیر ضروری بجلی کے آلات کو بند کردیں۔اگر بارش کے باعث کوئی بجلی کی تار یا چیز خراب ہوجائے تو خود ٹھیک کرنے سے پرہیز کریں ۔باہر کسی بھی بجلی کے پول اور سائن بورڈ سے دوررہیں۔

دوران بارش ڈرائیونگ سے گزیز کریں۔ ۔کسی بھی ندی نالے کو کراس کرنے سے گریز کریں کیونکہ پانی کی رفتار گاڑی کو بہا لے کر جاسکتی ہے۔ دوران برسات حفظان صحت کے اصولوں کا بھی خیال تاکہ رکھیں تاکہ ہیضے اور اسہال جیسی بیماریاں نا پھیل سکیں۔

 

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں