ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

یران جوہری معاہدے کی بحالی پر کوئی پیش رفت نہیں دیکھی گئی ہے: اسسٹنٹ سکریٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو

اقوام متحدہ (یو این) کے سیاسی اور امن سازی کے امور کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے  کہا ہے کہ مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (COEP)  کے نام سے یاد کیے جانے والے    ایران جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں کسی قسم کی کوئی  پیش رفت  نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ایرانی جوہری مسئلے کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے، ڈی کارلو نے کہا کہ فریقین کو مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

ڈی کارلو نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی درخواست کو دہراتے  ہوئے امریکہ  پر زور دیا کہ وہ COEP کے مطابق ایران کے خلاف پابندیاں  ختم کرے۔

ڈی کارلو نے ایران سےبھی  COEP کے تحت اپنی جوہری ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے  کہا کہ معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکرات میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

8 مئی 2018 کو ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکہ نے  یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کو ختم کردیا تھا   اور اس ملک پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیا  تھا جس پر  ایران نےانتقامی کاروائی کرتے ہوئے  8 مئی 2019 کو معاہدے میں اپنی سرگرمیاں معطل کرنا شروع کر دیا تھا۔

ٹرمپ کے بعد اپریل 2021 میں ویانا میں شروع ہونے والے جوہری مذاکرات اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرنے اور اس معاہدے میں امریکہ کی دوبارہ شمولیت پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں