ٹام ہینکس کی فلم "کاسٹ اَوے” سچی کہانی بن گئی۔
عام طور پر سچی کہانیوں پر فلمیں بنتی ہیں لیکن کبھی کبھی فلم بھی سچی کہانی بن جاتی ہے۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم 51 سالہ’ ٹِم شیڈوک’ اپنے کتے ‘بیلا’ کے ہمراہ اپریل میں فرانسیسی پولینیشیا جانے کے لئے میکسیکو سے روانہ ہوا۔
شیڈوک ، میکسیکو کے شہر لا پاز سے 6 ہزار کلو میٹر سے زیادہ طویل سفر کے لئے نکلا لیکن مختصر مدّت کے بعد خراب موسمی حالات کی وجہ سے اس کی کشتی کی بجلی بند ہو گئی اور کشتی نے شمالی پیسیفک اوقیانوس کی طرف جانا شروع کر دیا۔
راستہ بھولنے کے بعد شیڈوک 2 مہینوں تک سمندر کے رحم و کرم پر اِدھر سے اُدھر بھٹکتا رہا۔ اس دوران وہ کچی مچھلی کھاتا اور بارش کا پانی پیتا رہا۔
آخر کار اس کی کشتی کے اوپر سے گزرتے ایک ہیلی کاپٹر نے اس کی اطلاع دی اور قریبی علاقے سے گزرتی ایک اور کشتی نے شیڈوک کو بچایا۔
ٹِم شیڈوک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "سمندر میں میں بہت مشکل امتحان سے گزرا ہوں۔ اس وقت مجھے صرف آرام اور اچھی خوراک کی ضرورت ہے کیونکہ میں نے سمندر میں ایک طویل عرصہ تنہا گزارا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے صحت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے میں بالکل تندرست ہوں”۔
انہوں نے کہا ہے کہ میرے پاس مچھلی کے شکار کا سامان نہ ہوتا تو میں زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ سورج کی تیز روشنی سے بھی میں، کشتی کے ترپال کے نیچے پناہ لے کر ،محفوظ رہ سکا ہوں۔