کیا آپ کو معلوم ہے کہ بودرم قلعے کی تاریخ 600 سال سے زیادہ قدیم ہے۔ یہ قلعہ آج بھی پورے وقار سے اپنے قدموں پر کھڑا ہے اور موئثر شکل میں استعمال کیا جا رہا ہے؟
ترکیہ کے جنوبی ایجیئن حصّے میں واقع اور بے حد مقبول سیاحتی علاقہ بودرم تاریخ بھر میں نہایت اہم بندرگاہ والا شہر رہا ہے۔ اس شہر کی اہم ترین علامتوں میں سے ایک بودرم قلعہ ہے۔
تین اطراف سے سمندر میں گھِرا ‘قلعہ بودرم’ قدیم دور میں ایک جزیرے پر واقع تھا بعد میں یہ جزیرہ ایک طرف سے خشکی سے مل کر جزیرہ نما بن گیا۔ اس قلعے کو سینٹ جین کے جنگجووں نے 1406 سے 1522 کے سالوں میں اس چٹانی جزیرے پر اور دو بندرگاہوں کے درمیان تعمیر کیا۔ قلعہ مربع شکل میں تعمیر کیا گیا ہے اور اس میں دنیا کے سات عجوبوں میں شمار اور زلزلوں کی وجہ سے ٹوٹنے والے موسولس مزار کے پتھر استعمال کئے گئے ہیں۔ قلعے کے پانچ بُرج ہیں جن میں سب سے اُونچا 47،5 میٹر کی بلندی کے ساتھ فرانسیسی بُرج ہے۔
1960 میں اس قلعے کی مرّمت کی گئی اور سمندر برد تاریخی نوادرات کی نمائش کے لئے اس قلعے کو زیر آب آرکیالوجک عجائب گھر کی شکل دے دی گئی۔ بودرم زیرِ آب آرکیالوجک عجائب گھر کا شمار محض ترکیہ کے ہی نہیں دنیا بھر کے گِنے چُنے عجائب گھروں میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی قدیم ترین اور 3 ہزار 300 سال قبل یعنی اوّلین کانسی کے دور کےسمندر بَرد لیکیا تجارتی بحری جہاز "اولو بورون” کی بھی نمائش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی زمانے میں سمندری پانی سے بھری قلعے کی خندقوں میں سے ایک کو موجودہ دور میں میلوں اور کانسرٹوں کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
بودرم قلعہ صرف قدیم دور کے آثار ہی کو نہیں15 ویں صدی کے یورپی یادگاری طرزِ تعمیر، تکنیکی خصائص کے عکاس روڈوس جنگجووں کے دور میں تعمیر کئے گئے حصوں اور عثمانی دور میں تعمیر کئے گئے حصوں کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ ان خصائص کی بدولت بحیثیت ایک اہم یادگاری تاریخی ورثے کے اس قلعے کو یونیسکو کی عالمی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔