پیانگ یانگ: کوریا فرار ہونے والے امریکی فوجی ٹریوس کنگ کو سرحد پار کر نے سے قبل جنوبی کوریا میں لڑائی کے بعد حراست میں لے لیا گیا تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 23 سالہ امریکی فوجی ٹریوس کنگ کو حال ہی میں رہا کیا گیا تھا اور جب وہ فرار ہو نے لگا تو اسے واپس امریکا بھجا گیا، ٹریوس کنگ سے مبینہ طور پر ستمبر 2022 میں جنوبی کو ریا میں حملے کی تحقیقات کی گئی تھیں، جس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق امریکی فوجی نے ایک بار پھر پولیس کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا یاتھا اور حال ہی میں سیول میں ایک حراستی مرکز میں وقت گزارا تھا، ایک نا ئٹ کلب میں بھی ایک کوریا ئی شہری پر مکے مارنے کا شبہ بھی تھا،جس کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا،اسے حملہ کے الزام میں دو ماہ جیل میں گزار نے کےبعد 10جولائی کو رہا کیا گیاتھا، لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
عدالت نے امریکی فوجی کو پویس کار کے پچھلے دروازے کو “بار بار لات مارنے ” اور پکڑنے کی کوشش کر نے والے افسران پر “غلط زبان ” چلانے پر 5 ملین وون (£,3,000; $3,950)جرمانہ عائد کیاگیا۔
ٹریوس کنگ کو سیول کے قریب انچیون کے ہوائی اڈے پر واپس امریکا جا نے کے لیے لے جایا گیاتھا،جہاں اسے تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ جہاز میں سوار نہیں ہوا۔
کو ریا ٹائمز نے ہوائی اڈے کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ وہ اکیلے بور ڈنگ گیٹ پر پہنچے کیونکہ ملٹری پولیس افسران کو جہاز تک اس کے سا تھ جانے کی اجازت نہیں تھی، گیٹ پر اس نے مبینہ طور پر امریکن ایئر لا ئنز کے ایک اہلکار سے رابطہ کیا اور بہانہ کیا کہ اس کا پاسپورٹ غائب ہو گیا ہے، اس کےبعد ایئر لائن کے ایک ملازم نے اسے روانگی سے قبل باہر لے گیا۔
جہاں ملزم نے اپنے محافظ سے علیحدگی کے بعد شما لی اور جنوبی کو ریا کے درمیان غیر فوجی زون ، یا DMZ کے دورے پرجانے کے لیے ٹرمینل چھوڑ دیا، جہاں غیر ملکی ٹور کمپنیوں کے ذریعے وہ فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا۔