اسلام آباد: وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا ترمیمی بل 2023 قومی اسمبلی میں پیش کردیا پیمرا بل کے ابتدائیے سمیت 9 سیکشنز میں ترمیم جبکہ 5 نئے سیکشنز کا اضافہ کیاگیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کے زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا کے حوالے سے ترمیمی بل پیش کیا ، جس میں چینلز میں کام کرنے والے صحافیوں سمیت دیگر لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے اور دیگر نشریات کو بہتر بنانے کے حوالے سے شقیں پیش کی گئیں۔
قومی اسمبلی میں پیش کردہ بل میں تمام چینلز کو مصدقہ خبر، تحمل وبرداشت، معاشی وتوانائی کی ترقی اور بچوں سے متعلقہ مواد کے الفاظ شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،ابتدائیہ کی شق پانچ میں ترمیم کرکے الیکڑانک میڈیاکو ملازمین کی بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کا پابند بنایاگیا ہے،تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومتی اشتہارات متعلقہ الیکڑانک میڈیا کو فراہم نہیں کئے جائیں گے۔
بل میں مزید کہاکہ گیا ہے کہ براڈ کاسٹ میڈیا کا لائسنس20 سال کے لئے اور ڈسٹری بیوشن لائسنس 10 سال کے عرصے کے لئے ہوگا، نافذالعمل فیس ادا کرنا ہوگی لیکن اس میں سالانہ مجموعی تشہیری آمدن شامل نہیں ہوگی۔
بل کے سیکشن 6میں ترمیم کرکے ارکان کی متعین تعداد ختم کرکے پیمرا اراکین کی تقرری کا اختیار صدر پاکستان کو دیاگیا ہے،بوقت ضرورت چئیرمین پیمراکے سفارش کردہ ارکان کی تعیناتی ہوگی، یہ ارکان نان ووٹنگ اور اعزازی طورپر کام کریں گے، پیمرا کے ان دو ارکان میں سے ایک براڈ کاسٹرز اور دوسرا پی ایف یو جے کا نمائندہ ہوگا۔
بل میں مزید کہا گیا ہے کہ شکایات کونسلز الیکڑانک میڈیا میں کم ازکم تنخواہ کی حکومتی پالیسی، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کے نفاذ کو یقینی بنائیں گی، شکایات کونسلز الیکڑانک میڈیا کے خلاف شکایات کی سماعت، اپنی آرا اور سفارشات پیمرا کو ارسا ل کریں گی،شکایات کونسل ایک چئیرمین اور پانچ ارکان پر مشتمل ہوگی، اس میں کام کرنے والے افراد کی مدت دو سال ہوگی 29 اے کے نئے سیکشن کے تحت 10 لاکھ جبکہ سنگین خلاف ورزی پر 1 کروڑ روپے تک جرمانہ ہوسکے گا۔پیمرا کے فیصلوں کے خلاف متعلقہ صوبے کے ہائی کورٹ میں اپیل کی جاسکے گی۔