لاہور: پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ نے ملک بھر میں بجلی کی چو ری روکنے کے لئے قانون سازی کو ملکی معیشت کے لئے ناگزیر قرار دیا ہے ـ
قائم مقام چیئرمین پیاف نصراللہ مغل نے وائس چیئرمین پیاف طاہر منظور چودھری کے ہمراہ صنعت کاروں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ مہنگی بجلی کی ایک وجہ بجلی کی چوری بھی ہے جس کو روکنا بہت ضروری ہےـ
قومی اسمبلی میں کے مطابق گزشستہ ١٥ ماہ میں تقریبا ٥٠٠ ارب مالیت کی بجلی چوری ہوئی، توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے جو ٢٦ سو ارب کے لگ بھگ ہیں میں ٢٠ فیصد سے زائد حصہ بجلی کی چوری کا ہے ـ
حکومت کے نزدیک بجلی کے شعبے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کا حل صرف آئے روز بجلی مہنگی کرنا ہے، لیکن بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کے رحجان کا تدارک کئے بغیر گردشی قرضوں کی ادائیگی ممکن نہیں۔
حکومت کے بجلی چوری وکنے کے اقدام سے تمام دستیاب وسائل انڈسٹری کو منتقل ہوں گے اورصنعتیں اپنی کیپیسیٹی کے مطابق کام کر سکیں گی ۔
نصراللہ مغل نے کہاکہ بجلی چوری کے نتیجے میں ملک کو نا صرف سالانہ ابوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے بلکہ توانائی کا بحران مزید سنگین ہو جا تا ہے بین الاقوامی حالات کے تناظر میں ضروری ہو گیا ہے کہ حکومت ملکی صنعت اور معیشت کو زندہ و بحال رکھنے کے لیے بجلی کی چوری روکنےـ
قیمتوں میں کمی سمیت متعدد ایسے اقدامات کرے جن سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو ریلیف ملے اور ملک میں کاروباری حالات صحیح نہج پر چل سکیں، ملکی صنعت کے لیے مہنگی بجلی کے ساتھ چلنا محال ہے، پیداواری شعبہ مقابلے کی دوڑ سے باہر ہوتا جا رہا ہے
