ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ترکیہ: امریکی ذرائع ابلاغ میں، بائکار کی سعودی عرب کے لئے برآمدات کی، گونج

ترکیہ کی دفاعی کمپنی  ‘بائکار’ کی سعودی عرب کے لئے  بڑھتی ہوئی برآمدات امریکی ذرائع ابلاغ  میں بازگشت پیدا کر رہی ہیں۔

امریکہ کے معروف دفاعی نشریاتی پلیٹ فورموں  میں سے ‘بریکننگ ڈیفنس’ کی خبر میں بائکار کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی و فضائی مصنوعات کے برآمداتی سمجھوتے کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔

ترکیہ دفاعی کمپنی بائکار کے ڈائریکٹر جنرل حلوق بائراکتار  نے بریکننگ ڈیفنس کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بائکار کمپنی ایک آئس بریکر  کی طرح آگے بڑھ رہی اور ترکیہ دفاعی صنعت کی فرموں کا راستہ کھول رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "ہماری ساجھے دار کمپنیوں آسیلسان اور راکٹ سان  نے بھی اپنی ٹیکنالوجک قابلیت کے مطابق NCMS کے ساتھ سمجھوتے کئے ہیں۔ ان سمجھوتوں کی طفیل ترک دفاعی و فضائی  صنعت  کے ذیلی سسٹم بنانے والی سینکڑوں فرمیں اس شعبے میں نئی ساجھے داریاں کریں گی اور اپنے برآمداتی افق کو وسیع کریں گی”۔

بائراکتار نے کہا ہے کہ” حالیہ سمجھوتے کے ساتھ سعودی عرب کی عسکری صنعت، آقن جی کے اسپیئر پارٹس کی مقامی پیداوار میں، بائکار کے ساتھ تعاون کرے گی۔ ہم، ایک طویل عرصے سے اس شعبے میں   آر۔ڈی  کاروائیاں کر رہے ہیں ۔ اس سمجھوتے کے وسیلے سے ہمیں آر۔ ڈی تحقیق  سے حاصل شدہ معلومات اور تجربے کو ٹیکنالوجی  کی تیاری میں استعمال کرنے کا موقع مِلے گا”۔

انہوں نے کہا ہے کہ "ہمیں یقین ہے کہ یہ سمجھوتہ "ویژن 2030” کے نام سے سعودی ٹیکنالوجی کے فروغ اور مقامی پیداواری صلاحیت  کے ہدف   تک رسائی میں سعودی عرب کی بھی مدد کرے گا”۔

بائراکتار نے کہا ہے کہ اس سمجھوتے کے ساتھ دونوں ممالک  کی متوقع مشترکہ کوششیں علاقائی و عالمی استحکام  میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔

بریکننگ ڈیفنس  کی خبر میں موضوع سے متعلق آراء کا اظہار کرنے والے ماہرین کے مطابق بائکار  دفاعی فرم کا  سعودی عرب کے ساتھ طے کردہ سمجھوتہ ترکیہ اور سعودی عرب کی دفاعی صنعتوں کے درمیان ایک طویل المدت تعاون کی تشکیل کرے گا۔ یہ صورتحال، دفاعی صنعت  کے شعبے میں، ترکیہ کے دیگر خلیج ممالک کے ساتھ تعاون میں بھی اضافہ کرے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں