ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بشریٰ بی بی کی ڈائری بنی گالا سیکرٹریٹ کا  بلیک باکس ہے،فردوس عاشق اعوان

بشریٰ بی بی کی ڈائری بنی گالا سیکرٹریٹ کا  بلیک باکس ہے،فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد: استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی ڈائر بنی گالا سیکرٹریٹ کا  بلیک باکس ہے۔

بیوٹی باکس کی بجاے بلیک باکس نے اندر کی کہانی کھول دی، ڈائر ی میں ان کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہدایات نے ہمارے دعووں کو سچ ثابت کر دیا ہے۔

بشری بی بی کی ہدایات پر بنی گالا کے ساتھ ساتھ پورے ملک کو چلایا گیا، اسی ناچ نجانے آنگن ٹیڑھا کا نتیجہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

ان خیالات کااظہار ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی ڈائری منظر عام آنے کے بعد اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ہرکامیاب مرد کے پیچھے دعا گو ماں اور وفادار بیوی کی صورت میں عورت کا ہاتھ ہوتا ہے، چیرمین پی ٹی آی کی ناکامی کے پیچھے اس کی مرشد بشریٰ بی بی کا ہاتھ ہے۔

ڈائری والی سرکار نے پی ٹی آی سرکار کا خوب تختہ الٹایا ہے، ڈائری میں بورڈنگ سکول کے وارڈن کی طرح سابق وزیر اعظم کے لے ہدایات درج ہیں۔

بشریٰ بی بی کی ڈائری امام دین کی شاعری ثابت ہوی ہے، وہ اخلاق کی تباہی کا باعث اور یہ ملکی سیاست کی تباہی کا باعث بنی۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اس ڈائر کے منظر عام پر آنے سے بشریٰ بی بی کے نام نہاد پیر بننے کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے، پیر تو امن و محبت فلاح اور نیکی کا رستہ دکھاتا ہے۔

بنی گالا کی خاتون پیر ملک کا امن وامان تباہ کرنے اور انتشار کا سبق سکھا رہی ہیں، یہ ڈائری ان کے شدت پسند روے اور سخت گیر ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کا سربراہ پورے دور حکومت میں اس سوچ کے زہر اثر رہا ہے۔

توہم پرستی نے اس ملک کو چار سال یرغمال بنائے رکھا ہے ، کھبی جنتری کبھی زائچے اور کبھی ڈائری پی ٹی آی سیاست کا کل خلاصہ ہے۔

مذید پڑھیں: بشریٰ بی بی نے عمران خان کو کیسے کنٹرول کیا؟ مبینہ ڈائری میں حیران کن انکشافات

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں