فیصل آباد: پنجاب کے شہر فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں ہونے والے سانحہ میں اُجڑے مسیحیوں کی جلے گھروں کو واپسی شروع ہوگئی، آگ کی نذر کیے گئے گرجا گھر دیکھ کر ہر آنکھ اشک بار ہے۔
تفصیلات کے مطابق فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں 16 اگست کو کرسچن کالونی میں ہونے والے افسوس ناک واقعہ کے بعد بند کیے گئے سرکاری اور نجی ادارے معمول کے مطابق کھل گئے ہیں، امن و امان برقرار رکھنے کیلئے رینجرز کی دو کمپنیاں سٹینڈ بائی کر دی گئیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں توہینِ مذہب کے مبینہ واقعے کیخلاف احتجاج کرنے والے مشتعل افراد نے کرسچین کالونی اور عیسیٰ نگری میں گرجا گھروں، مسیحی برادری کے درجنوں مکان، گاڑیاں اور مال و اسباب جلا دیے تھے۔
پولیس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اب تک جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے والے مرکزی ملزم سمیت 150 افراد کو حراست میں لیا ہے، عدالت سے جسمانی ریمانڈ ملنے پر 128 ملزمان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر کے تفتیش شروع کر دی۔
پولیس کی جانب سے واقعے کے مزید تین مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جن میں دہشت گردی، اقدام قتل، سرکاری و نجی املاک کی توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ سمیت 9 دفعات شامل ہیں۔
