فیصل آباد:جماعت اسلامی کے ضلعی امیرپروفیسرمحبوب الزماں بٹ نے صدرعارف علوی کی طرف سے پارلیمنٹ سے پاس توہین صحابہ کی سزا کے بل پر اعتراض لگا کرواپس بجھوانے پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ پوری قوم کو صدر کے اعتراض پر تشویش ہے، قوم اس فیصلہ کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔
اپنے ردعمل میں اُنہوں نے کہاکہ صدر عارف علوی کے دستخط کے بعد بل باقاعدہ قانون بن جانا تھا جس کے مطابق نبی آخر الزمان رسولۖ کے خاندان، ازواج مطہرات، صحابہ کرام اور چاروں خلفائے راشدین سمیت مقدس شخصیات کے خلاف توہین آمیز کلمات کہنے والا قانونی سزا کا مستحق ہو گا لیکن صدر نے عارف علوی بل واپس کرکے اپنی عاقبت خراب کی ہے جس کی سزا انہیں دنیا اور آخرت میں بھگناپڑے گی ۔
انہوں نے کہا کہ اس بل کی منظوری سے کسی کی ذات کو نقصان نہیں ہوگا صرف گستاخی کے مرتکب ہی انجام کو پہنچیں گے لیکن عارف علوی نے آقا دوجہاں ۖ کی خوشنودی حاصل کرنے کی بجائے اپنے بیرونی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجہ میں وہ دونوں جہاں کی رسوائی ان کے حصہ میں آئے گی۔
انہوں نے کہاکہ ہتک عزت دنیا کے ہر قانون میں جرم ہے،عزت و وقار کا تحفظ دنیا کے ہرقانون میں تسلیم کیا جاتا ہے مگرانبیاء کرام اور صحابہ واہل بیت عظام کی توہین کرنے کو اس درجہ کاجرم تسلیم کرنے سے گریز مذہب و مقدس شخصیات کے حوالے سے امتیازی سلوک ہے جو افسوسناک ہے ۔
نگران حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس بل کو قانونی شکل دینے کیلئے اپنا بھرپورکرداراداکرے اور صدر کو مجبورکیاجائے کہ وہ فوری طور پراس بل پر دستخط کرکے اپنی دینی اور قانونی ذمہ داری اداکریں۔
